مراکش کے شہر فاس میں ہونے والی ایک بین الاقوامی کانفرنس میں ماہرین نے مصنوعی ذہانت (AI) کے ذمہ دارانہ استعمال، اخلاقی اصولوں اور دنیا بھر کے تعاون کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وفاقی حکومت طلبہ کو اے آئی تربیت کے لیے سعودی عرب بھجوائے گی، وزیراعظم کا اعلان
مراکش کے شہر فاس میں یورو میڈیٹیرینین یونیورسٹی کے زیر اہتمام ایک بڑی بین الاقوامی کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں 75 ممالک سے 2 ہزار سے زائد ماہرین، سرکاری نمائندے اور دانشور شریک ہوئے۔ کانفرنس کا موضوع ’مصنوعی ذہانت کے دور میں انسانی تہذیب کا مستقبل‘ تھا۔
The “Euromed University of Fez Meetings on the Alliance of Civilizations,” held under the theme “The Future of Human Civilization Facing the Challenges of AI,” opened yesterday.
The opening session brought together prominent figures from academic, political, and international… pic.twitter.com/2tJEMbjtQr
— Morocco World News (@MoroccoWNews) April 28, 2026
کانفرنس کے اختتام پر جاری اعلامیے ’فاس میسج‘ میں کہا گیا کہ مصنوعی ذہانت انسانیت کی ترقی کے لیے ایک بڑا موقع ہے، لیکن اس کا استعمال انصاف، انسانی وقار اور عالمی اصولوں کے مطابق ہونا چاہیے۔
شرکا نے کہا کہ اے آئی کے نظام کو شفاف، ذمہ دار اور قابلِ وضاحت ہونا چاہیے تاکہ لوگوں کا اس پر اعتماد بڑھے۔ ساتھ ہی خبردار کیا گیا کہ غلط ڈیٹا اور تعصب پر مبنی الگورتھمز مسائل پیدا کر سکتے ہیں، اس لیے اس کے لیے بہتر قوانین بنانا ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیں:سعودی عرب کا پہلا مقامی اے آئی چیٹ بوٹ لانچ کردیا گیا
کانفرنس میں یہ بھی بتایا گیا کہ مصنوعی ذہانت صحت، معیشت اور دیگر شعبوں میں نئی سہولتیں پیدا کر سکتی ہے، لیکن ڈیٹا کے تحفظ اور درست معلومات کو یقینی بنانا بھی بہت اہم ہے۔
ماہرین نے سائبر سیکیورٹی، جھوٹی معلومات اور نفرت انگیز مواد جیسے خطرات پر بھی تشویش ظاہر کی اور کہا کہ ان سے نمٹنے کے لیے مؤثر نظام بنانا ضروری ہے۔
Fez conference calls for stronger global cooperation and ethical governance of emerging technologies. #Morocco https://t.co/MM5MhoMZlr pic.twitter.com/a10YFxGREi
— Arab News (@arabnews) May 3, 2026
شرکا نے زور دیا کہ نئی ٹیکنالوجی میں نوجوانوں کی تربیت، سرمایہ کاری اور جدید انفراسٹرکچر پر توجہ دی جائے تاکہ سب کو یکساں مواقع مل سکیں۔
کانفرنس کے آخر میں عالمی برادری سے اپیل کی گئی کہ مصنوعی ذہانت کو امن، ترقی اور مختلف ثقافتوں کے درمیان بہتر تعلقات کے لیے استعمال کیا جائے۔













