ڈھاکہ میں منعقدہ ایک قومی کنونشن کے دوران اپوزیشن رہنماؤں اور ماہرین نے بنگلہ دیش کی بی این پی کی قیادت والی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ وہ انتخابی وعدوں کے مطابق اصلاحات نافذ کرنے میں ناکامی کا شکار ہے، جس سے ملک میں آمرانہ طرزِ حکمرانی کے خدشات پیدا ہو رہے ہیں۔
یہ اظہارِ خیال نیشنل سٹیزنز پارٹی (این سی پی) کے زیر اہتمام ’توانائی، معیشت، انسانی حقوق، اصلاحات اور ریفرنڈم‘ کے عنوان سے منعقدہ کنونشن میں کیا گیا۔ مقررین نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت اپنے انتخابی منشور سے ہٹ کر ایسے اقدامات کر رہی ہے جو انتظامی اختیارات کو مزید مضبوط بناتے ہیں جبکہ شفافیت اور احتساب کے نظام کو کمزور کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:ڈھاکہ میں منظم جرائم اور گینگ وار دوبارہ سر اٹھانے لگے، شہریوں میں تشویش
این سی پی رہنماؤں نے الزام لگایا کہ حکومت نے متعدد ایسے آرڈیننس نافذ کیے ہیں جن سے ایگزیکٹو پاور میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ دوسری جانب اصلاحاتی اقدامات خصوصاً آئینی ڈھانچے کی بہتری، عدالتی خودمختاری، پولیس اصلاحات اور جبری گمشدگیوں کی تحقیقات سے متعلق مجوزہ اقدامات کو یا تو روک دیا گیا ہے یا غیر مؤثر بنا دیا گیا ہے۔
کنونشن میں ماہرین نے بھی تشویش ظاہر کی کہ ریاستی اداروں میں توازن برقرار رکھنے کے بجائے اختیارات ایک مرکز میں مرتکز کیے جا رہے ہیں۔ سیاسی تجزیہ کار دلیرا چودھری نے کہا کہ بنگلہ دیش کی سیاسی تاریخ میں اکثر اصلاحاتی عمل مزاحمت کا شکار رہا ہے اور موجودہ حالات بھی اسی تسلسل کی عکاسی کرتے ہیں۔ ان کے مطابق 2024 کی عوامی تحریک کے بعد شروع ہونے والی اصلاحات اب غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہیں۔

مزید یہ بھی کہا گیا کہ مقامی حکومت کے قوانین میں مجوزہ تبدیلیاں منتخب نمائندوں کو بغیر شفاف نگرانی کے ہٹانے کی اجازت دے سکتی ہیں، جس سے سیاسی مداخلت کے امکانات بڑھ جائیں گے۔ شرکاء نے آئینی اداروں کی مبینہ سیاسی وابستگی پر بھی تحفظات کا اظہار کیا۔
معاشی ماہر میرزا حسن نے کہا کہ کسی بھی جمہوری نظام کے استحکام کے لیے ایگزیکٹو، مقننہ اور عدلیہ کے درمیان واضح توازن ضروری ہے، جبکہ مجوزہ اصلاحات اسی توازن کو قائم رکھنے کے لیے تجویز کی گئی تھیں۔
یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش میں ٹرک اور وین میں تصادم، 8 مزدور جاں بحق
این سی پی رہنماؤں نے حکومت سے ’جولائی چارٹر‘ پر عملدرآمد اور اصلاحاتی ریفرنڈم کے نتائج کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اصلاحاتی وعدوں پر عمل نہ کیا گیا تو ملک میں عوامی احتجاجی تحریک جنم لے سکتی ہے۔
دوسری جانب بی این پی کی قیادت والی حکومت نے ان الزامات پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا ہے۔














