بنگلہ دیش: اپوزیشن کا حکومت پر اصلاحات سے انحراف کا الزام، آمرانہ رجحانات کے خدشات

اتوار 3 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 

ڈھاکہ میں منعقدہ ایک قومی کنونشن کے دوران اپوزیشن رہنماؤں اور ماہرین نے بنگلہ دیش کی بی این پی کی قیادت والی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ وہ انتخابی وعدوں کے مطابق اصلاحات نافذ کرنے میں ناکامی کا شکار ہے، جس سے ملک میں آمرانہ طرزِ حکمرانی کے خدشات پیدا ہو رہے ہیں۔

یہ اظہارِ خیال نیشنل سٹیزنز پارٹی (این سی پی) کے زیر اہتمام ’توانائی، معیشت، انسانی حقوق، اصلاحات اور ریفرنڈم‘ کے عنوان سے منعقدہ کنونشن میں کیا گیا۔ مقررین نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت اپنے انتخابی منشور سے ہٹ کر ایسے اقدامات کر رہی ہے جو انتظامی اختیارات کو مزید مضبوط بناتے ہیں جبکہ شفافیت اور احتساب کے نظام کو کمزور کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:ڈھاکہ میں منظم جرائم اور گینگ وار دوبارہ سر اٹھانے لگے، شہریوں میں تشویش

این سی پی رہنماؤں نے الزام لگایا کہ حکومت نے متعدد ایسے آرڈیننس نافذ کیے ہیں جن سے ایگزیکٹو پاور میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ دوسری جانب اصلاحاتی اقدامات خصوصاً آئینی ڈھانچے کی بہتری، عدالتی خودمختاری، پولیس اصلاحات اور جبری گمشدگیوں کی تحقیقات سے متعلق مجوزہ اقدامات کو یا تو روک دیا گیا ہے یا غیر مؤثر بنا دیا گیا ہے۔

کنونشن میں ماہرین نے بھی تشویش ظاہر کی کہ ریاستی اداروں میں توازن برقرار رکھنے کے بجائے اختیارات ایک مرکز میں مرتکز کیے جا رہے ہیں۔ سیاسی تجزیہ کار دلیرا چودھری نے کہا کہ بنگلہ دیش کی سیاسی تاریخ میں اکثر اصلاحاتی عمل مزاحمت کا شکار رہا ہے اور موجودہ حالات بھی اسی تسلسل کی عکاسی کرتے ہیں۔ ان کے مطابق 2024 کی عوامی تحریک کے بعد شروع ہونے والی اصلاحات اب غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہیں۔

مزید یہ بھی کہا گیا کہ مقامی حکومت کے قوانین میں مجوزہ تبدیلیاں منتخب نمائندوں کو بغیر شفاف نگرانی کے ہٹانے کی اجازت دے سکتی ہیں، جس سے سیاسی مداخلت کے امکانات بڑھ جائیں گے۔ شرکاء نے آئینی اداروں کی مبینہ سیاسی وابستگی پر بھی تحفظات کا اظہار کیا۔

معاشی ماہر میرزا حسن نے کہا کہ کسی بھی جمہوری نظام کے استحکام کے لیے ایگزیکٹو، مقننہ اور عدلیہ کے درمیان واضح توازن ضروری ہے، جبکہ مجوزہ اصلاحات اسی توازن کو قائم رکھنے کے لیے تجویز کی گئی تھیں۔

یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش میں ٹرک اور وین میں تصادم، 8 مزدور جاں بحق

این سی پی رہنماؤں نے حکومت سے ’جولائی چارٹر‘ پر عملدرآمد اور اصلاحاتی ریفرنڈم کے نتائج کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اصلاحاتی وعدوں پر عمل نہ کیا گیا تو ملک میں عوامی احتجاجی تحریک جنم لے سکتی ہے۔

دوسری جانب بی این پی کی قیادت والی حکومت نے ان الزامات پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

امریکی وزیر خارجہ ٹرمپ اور پوپ کے تنازع کے بعد ویٹیکن کا دورہ کریں گے

جنوبی وزیرستان میں لشمینیا کے 255 مریض رپورٹ، بچوں میں بڑھتے کیسز باعث تشویش

نئی دہلی کی رہائشی عمارت میں خوفناک آتشزدگی، 9 افراد ہلاک، ایک سالہ بچہ بھی شامل

حفیظ پاشا اور ون کانسٹیٹیوشن ایونیو تنازع: سرکاری زمین، لگژری فلیٹس اور اربوں کے واجبات

جمائما گولڈ سمتھ کی ایک بار پھر ارب پتی بزنس مین سے شادی کی تیاری

ویڈیو

پنجاب ٹورازم اینڈ انویسٹمنٹ ایکسپو، سرمایہ کاروں کے لیے سنہری موقع

پاکستان کا آئی کیوب قمر مشن، کامیابیاں کیا رہیں اور اگلی لانچ کب؟

پی ایس ایل فائنل: حیدرآباد کنگز مین کے شائقین ٹرافی جیتنے کے لیے پُرامید

کالم / تجزیہ

امیر ملکوں میں رودالی کلچرکا احیا

صحافت بمقابلہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس: کون جیتے گا؟

امریکی دبدبہ