ایک تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اسرائیلی ٹیلی کمیونیکیشن انفرا اسٹرکچر کو گزشتہ چند برسوں کے دوران دنیا کے 10 سے زائد ممالک میں افراد کی نگرانی اور لوکیشن ٹریک کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔
کینیڈا میں قائم ڈیجیٹل ریسرچ گروپ سٹیزن لیب کی تحقیقات کے مطابق 1970 کی دہائی میں قائم نیٹ ورکس سے لے کر جدید 5 جی سسٹمز تک کو جدید اسپائی ویئر پروگرامز کے ذریعے ’ٹریکنگ ڈیوائسز‘ میں تبدیل کر دیا گیا۔
مزید پڑھیں: اسرائیلی ریلوے نیٹ ورک پر سائبر حملے، اہم روٹس پر ٹرین سروسز معطل
اسرائیلی اخبار ہارٹز میں شائع ہونیوالی اس رپورٹ کے مطابق نومبر 2022 سے اب تک تھائی لینڈ، جنوبی افریقہ، ناروے، بنگلہ دیش اور ملائیشیا سمیت 10 مختلف ممالک میں فون کی لوکیشن معلوم کرنے کی 15 ہزار 700 سے زائد کوششیں کی گئیں۔
یہ کارروائیاں اسرائیلی ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیوں کے نیٹ ورک کے ذریعے انجام دی گئیں۔
Ghost operators: How Israeli telecoms were xploited to track citizens globally.@omerbenj with a new @citizenlab report that shows how a sophisticated SMS exploit can turn your phone into a tracking device – and how 4G and 5G networks are also being abusedhttps://t.co/MG8CI8ew6b
— avi scharf (@avischarf) May 3, 2026
تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ کوگنائٹ کی پیرنٹ کمپنی ویرنٹ نے کانگو کی جمہوریہ کے ایک سرکاری ادارے کو ای ایس 7 پر مبنی ’اسکائی لاک‘ نامی ٹریکنگ سسٹم فروخت کیا۔
مزید برآں، سوئٹزرلینڈ کی ٹیلی کام کمپنی فنک ٹیلی کام سروسز نے رے زون گروپ جیسی اسرائیلی نگراں کمپنیوں کو یہ سہولت فراہم کی کہ وہ موبائل آپریٹرز کی نقالی کرتے ہوئے پرانے موبائل نیٹ ورکس تک رسائی حاصل کریں۔
اس طریقے سے ایس ایس 7 سگنلنگ پروٹوکول کے ذریعے دنیا بھر میں صارفین کی نگرانی ممکن بنائی گئی۔
مزید پڑھیں: 2 معروف نیوز چینلز پر اسرائیلی و بھارتی سائبر حملہ ناکام بنا دیاگیا، نشریات بحال
ایس ایس 7 دراصل ایک پرانا سسٹم ہے جو کالز اور میسجز کی روٹنگ، بین الاقوامی رومنگ اور مختلف موبائل آپریٹرز کے درمیان رابطہ ممکن بنانے کے لیے بنایا گیا تھا، تاہم اسے نگرانی کے مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جدید 4جی اور 5جی نیٹ ورکس کو چلانے والے ڈایا میٹر سسٹمز کو بھی اس مقصد کے لیے استعمال کیا گیا۔
تحقیقات میں ایک اہم سائبر حملے کی تکنیک ’سم جیکنگ‘ کا بھی ذکر کیا گیا، جس کے تحت صارف کو نظر نہ آنے والا ایک خفیہ ایس ایم ایس بھیج کر اور اس میں موجود کمانڈ کے ذریعے سم کارڈ کو فون کی لوکیشن شیئر کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔
مزید پڑھیں: ایکس کے نئے ٹرانسپیرنسی فیچر نے پاکستان مخالف پروپیگنڈا نیٹ ورک بے نقاب کر دیا
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی کمپنیوں 019 موبائل اور پارٹنرز کمیونیکیشن کے نیٹ ورکس کے ذریعے بھی فون ٹریکنگ کی گئی۔ تاہم 019 موبائل نے اس الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک ورچوئل آپریٹر ہے اور ممکن ہے کہ اس کی شناخت کو غلط استعمال کیا گیا ہو۔
ایکسزیلیرا ٹیلی کام، پارٹنرز کمیونیکیشن، فنک اور کوگنائٹ ویرینٹ سمیت دیگر متعلقہ کمپنیوں کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔














