پاکستان کے معروف نجی ٹی وی چینلز جیو نیوز اور اے آر وائی کی نشریات میں غیر مجاز مداخلت اور سائبر حملے کی کوشش کو بروقت پہچان کر ناکام بنا دیا گیا۔ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ حملے کے پیچھے اسرائیلی اور بھارتی ہیکر گروپس سے منسلک دشمنانہ نیٹ ورکس ہو سکتے ہیں۔
🚨🚨 An attempted cyber intrusion targeting Geo News was detected and successfully neutralized in a timely manner.
Preliminary digital forensics suggest the attack originated from hostile networks linked to Israeli and Indian hacker groups.
Thanks to proactive monitoring… pic.twitter.com/m7uLSpebDo
— Expose Propaganda (@EPropoganda1) March 1, 2026
پروایکٹیو مانیٹرنگ سسٹمز اور تیز رفتار ردعمل کے پروٹوکول کی بدولت کسی بھی قسم کی ڈیٹا خلاف ورزی یا نشریاتی رکاوٹ سے پہلے کارروائی کی گئی، اور سائبر سیکیورٹی ٹیموں نے نقصان دہ ٹریفک کو فوری الگ کیا اور دفاعی اقدامات کو مضبوط کیا۔
واقعہ رات دیر گئے پیش آیا جب چینلز کی سیٹلائٹ فریکوئنسی ہیک کی گئی اور اسکرین پر ملک دشمنی پر مبنی نامناسب پیغامات نشر کیے گئے۔ سوشل میڈیا پر اطلاعات کے مطابق یہ مداخلت بیرونی عناصر کی جانب سے کی گئی تھی تاکہ ملک میں انتشار اور پریشانی پیدا کی جا سکے۔
ہم اپنےناظرین کو آگاہ کرنا چاہتے ہیں،،، کہ جیو نیوز ،،،جو پاکستان کے سیٹلائٹ ،،،پاک سیٹ پر ہے،،،،اس کو کسی جانب سے پچھلے چوبیس گھنٹوں سے ہیک کرنے کی اور اس کی نشریات میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے،،،اور اب کچھ دیر سے جیو نیوز کی نشریات کو مسلسل رکاوٹ کا سامنا ہے،جیو نیوز…
— Azhar Abbas (@AzharAbbas3) March 1, 2026
جیو نیوز کے مینجنگ ڈائریکٹر اظہر عباس نے ٹوئٹ میں بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں سے چینل کی نشریات میں مسلسل رکاوٹیں آ رہی ہیں اور ہیکنگ کی کوششیں جاری ہیں۔ انہوں نے حکومت اور متعلقہ حکام سے اپیل کی کہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے اور ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔
After Geo, ARY downlink also hacked. Same message displayed.
— Raftar (@raftardotcom) March 1, 2026
چینل کی ویب سائٹ پر بھی اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا گیا کہ جیو نیوز کی نشریات میں رکاوٹ اور ہیکنگ کا جیو نیوز سے کوئی تعلق نہیں، اور یہ ایک غیر قانونی اور دشمنانہ مداخلت تھی۔














