چین کے صوبہ ہونان کے شہر لیویانگ میں ایک آتش بازی فیکٹری میں ہونے والے زور دار دھماکے کے نتیجے میں 21 افراد ہلاک جبکہ 61 زخمی ہو گئے۔
ریاستی میڈیا کے مطابق ہواشینگ فائر ورکس پلانٹ میں یہ دھماکا پیر کے روز مقامی وقت کے مطابق شام 4 بج کر 40 منٹ پر ہوا، جس کے بعد امدادی ٹیموں نے فیکٹری کے گرد 3 کلومیٹر کے علاقے کو خالی کرا لیا۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیشی وزیر خارجہ کا 3 روزہ دورہ چین، دوطرفہ تعلقات میں نئی روح پھونکنے کی کوشش
حکام کے مطابق قریباً 500 اہلکاروں کو ریسکیو آپریشن کے لیے تعینات کیا گیا جبکہ عمارت کے ملبے تلے دبے افراد کو تلاش کرنے کے لیے روبوٹس کی بھی مدد لی گئی۔ پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور فیکٹری کے ذمہ دار شخص کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے اسے تحویل میں لے لیا گیا ہے۔
🤍🤍🤍The Heartbreaking SCENES at the explosion site of a central China’s fireworks plant https://t.co/tu9r11KuYK pic.twitter.com/uWimhDcvqh
— ShanghaiEye🚀official (@ShanghaiEye) May 5, 2026
ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ فیکٹری میں موجود بارود کے 2 گودام امدادی سرگرمیوں کے دوران شدید خطرہ بنے ہوئے تھے، جس کے باعث مزید احتیاطی تدابیر اختیار کی گئیں، جن میں علاقے کو نم رکھنا بھی شامل تھا تاکہ کسی دوسرے حادثے سے بچا جا سکے۔
دھماکے کی شدت اس قدر زیادہ تھی کہ قریبی رہائشی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے جبکہ کھڑکیوں کے فریم اور دروازے بھی شدید متاثر ہوئے۔ زخمی ہونے والوں کی عمریں 20 سے 60 سال کے درمیان بتائی گئی ہیں، جن میں سے بعض افراد ملبے کے ٹکڑوں سے ٹکرا کر ہڈیوں کی چوٹوں کا شکار ہوئے۔
چینی صدر شی جن پنگ نے لاپتا افراد کی تلاش اور زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے واقعے کی مکمل تحقیقات کا حکم دیا ہے۔
مزید پڑھیں:چینی کمپنیوں کو بنگلہ دیش میں تیل و گیس کی تلاش کا ٹھیکہ مل گیا
واضح رہے کہ لیویانگ شہر دنیا میں آتش بازی کی مصنوعات کی سب سے بڑی پیداوار کے لیے جانا جاتا ہے، تاہم اس صنعت سے وابستہ فیکٹریوں میں حادثات ماضی میں بھی پیش آتے رہے ہیں۔ گزشتہ فروری میں بھی صوبہ ہوبے میں ایک آتش بازی کی دکان میں دھماکے کے نتیجے میں 12 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔














