پاکستان تحریک انصاف کی بنے والی مانیٹرنگ کمیٹی پر پارٹی کے اندر شدید تحفظات کیوں ہیں؟

بدھ 6 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے پنجاب میں 5 رکنی پنجاب کوآرڈینیشن اینڈ مانیٹرنگ کمیٹی نوٹیفائی کر دی ہے، اس کمیٹی کے اندر امجد خان نیازی، نعیم حیدر پنجوتھا، شوکت بسرا، علی اعجاز بٹر، مہر عبد لستار شامل ہیں۔

اس نوٹیفکیشن کے مطابق کمیٹی کو صوبہ پنجاب کے چاروں ریجنز میں پارٹی کی تنظیمی امور کو ہم آہنگ کرنے، علاقائی صدر اور جنرل سیکریٹریوں کے ساتھ رابطے قائم کرنے، تمام الیکشنز کی منصوبہ بندی اور تیاری کو کوآرڈینیٹ کرنے، ہر سطح پر پارٹی سٹرکچر کی تکمیل کی مانیٹرنگ کرنے، وابستہ ونگز کی سرگرمیوں کو ہم آہنگ کرنے، علاقائی عہدیداروں کو تنظیمی کارکردگی بہتر بنانے کے مشورے دینے، صوبائی سطح پر سیاسی ایونٹس کی تجاویز دینے اور ان کی نگرانی کرنے، قیدیوں کی فلاح و بہبود کی مانیٹرنگ کرنے اورعدالتوں میں قانونی امداد فراہم کرنے کی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:خیبر پختونخوا کی پی ٹی آئی حکومت اپوزیشن ارکان کو ترقیاتی فنڈز کیوں نہیں دے رہی؟

کمیٹی ہفتہ وار رپورٹ سیکریٹری جنرل کو پیش کرے گی۔ یہ اقدام پی ٹی آئی پنجاب کی چیف کنوینر الیہ حمزہ کی غیرفعالیت کے تناظر میں اٹھایا گیا ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق صوبائی سطح پر تنظیمی خلا کو پر کرنے اور الیکشنز کی تیاری کے لیے یہ کمیٹی قائم کی گئی ہے، لیکن پارٹی کے اندر اس اقدام پر شدید ناراضگی سامنے آئی ہے۔ پارٹی کے ایک سینیئر رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر انکشاف کیا ہے کہ کمیٹی کا کام تنظیمی امور اور کوآرڈینیشن نہیں ہے بلکہ اصل ہدف رہنماؤں اور کارکنوں کی سرگرمیوں کی مانیٹرنگ ہے۔

پی ٹی آئی رہنما کے مطابق پچھلے 4 سال سے پی ٹی آئی کے رہنماؤں پر جو مصائب گزرے ہیں، کاروبار تباہ، مقدمات کا سامنا، گرفتاریاں اور مسلسل دباؤ، ان سب کو جانتے ہوئے بھی سلمان اکرم راجہ نے یہ کمیٹی بنائی ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اگر مستقبل میں کوئی ریلی، احتجاج، جلسہ یا اڈیالہ جیل کے باہر کوئی پروگرام ہو تو یہ 5 رکنی کمیٹی مکمل مانیٹرنگ کرے گی کہ کون سا رہنما، ایم این اے، ایم پی اے یا سینیئر عہدیدار اس میں شریک ہوا۔ کمیٹی ایک ماہ کی تفصیلی رپورٹ تیار کر کے سلمان اکرم راجہ کو پیش کرے گی اور جن رہنماؤں نے شرکت نہ کی ہو گی، ان کے خلاف نوٹسز جاری کیے جائیں گے۔

ایک اور سینیئر پی ٹی آئی رہنما نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس کمیٹی کے حوالے سے پارٹی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کے سامنے تحفظات پیش کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا اگر کمیٹی بنانی تھی تو اسے کوآرڈینیشن بہتر بنانے، ورکرز اور رہنماؤں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے اور پارٹی کو مضبوط کرنے کا کام سونپا جاتا۔ اس کے بجائے یہ نئی مشکلات کھڑی کرنے کا ذریعہ بن رہی ہے۔ اس کمیٹی کو ختم کیا جائے ۔

رہنما نے مزید بتایا کہ بیرسٹر گوہر علی خان نے ان تحفظات کو سنجیدگی سے سنا اور وعدہ کیا کہ جلد ہی اس معاملے پر کوئی لائحہ عمل جاری کیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق سلمان اکرم راجہ اور فردوس شمیم نقوی کے درمیان پرانی تلخیاں بھی اس نوٹیفکیشن کے پیچھے ہیں۔ پنجاب کے علاقائی صدور نے ان ناموں پر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ کمیٹی میں شامل کچھ افراد پارٹی کے اندر گروپنگ اور ذاتی مفادات کی نمائندگی کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:پی ٹی آئی آزاد کشمیر اختلافات کا شکار، پارلیمانی بورڈ کے معاملے پر ایک گروپ کا بیرسٹر گوہر کے گھر کے باہر احتجاج

پی ٹی آئی کے اندر حالیہ مہینوں میں تنظیمی معاملات، سیاسی کمیٹیوں اور عہدوں کی تقسیم پر متعدد بار اختلافات سامنے آ چکے ہیں۔ کچھ رہنما سلمان اکرم راجہ پر الزام لگاتے ہیں کہ وہ پارٹی کو اپنے حساب سے چلا رہے ہیں جبکہ دوسرے یہ کہتے ہیں کہ ایسے اقدامات سے پارٹی کے اندر اتحاد کمزور ہو رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

امریکی ڈیموکریٹس کا اسرائیل کے جوہری ابہام سے پردہ اٹھانے کا مطالبہ

معرکہ حق: بھارت اب پاکستان کی طرف دشمنی کی نظر سے دیکھنے کی ہمت نہیں کرے گا، اسلام آباد کے عوام کی رائے

فلسطینی بچوں کا ملالہ سے ویڈیو کال مکالمہ، تعلیمی رکاوٹیں اور اسرائیلی مظالم کی دردناک کہانی

خیبرپختونخوا حکومت کا بجٹ، عوام کیا کہتے ہیں، کیا ان کے مسائل حل ہوں گے؟

جے یو آئی حکومت بلوچستان سے نالاں کیوں ہیں؟

ویڈیو

معرکہ حق: بھارت اب پاکستان کی طرف دشمنی کی نظر سے دیکھنے کی ہمت نہیں کرے گا، اسلام آباد کے عوام کی رائے

خیبرپختونخوا حکومت کا بجٹ، عوام کیا کہتے ہیں، کیا ان کے مسائل حل ہوں گے؟

امریکی صدر کی اسٹریٹجی ناکام، ایران سے مذاکرات کی جلدی

کالم / تجزیہ

اگر مولانا فضل الرحمان اپوزیشن لیڈر ہوتے؟

انڈین بنگال میں ممتا بنرجی کو کیسے ہرایا گیا؟

ٹریل 5: فطرت، تنہائی اور خودکلامی