اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز ٹرانسفر کا معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا، آئینی ترامیم اور شفافیت پر سوالات، بار ایسوسی ایشن کی درخواست دائر

جمعرات 30 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سپریم کورٹ آف پاکستان میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے تین ججز کے تبادلوں کے خلاف درخواست دائر کر دی گئی ہے، جس میں ججز ٹرانسفر کے عمل کو آئینی اور قانونی طور پر چیلنج کیا گیا ہے۔

یہ درخواست لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے سینئر قانون دان حامد خان کے ذریعے دائر کی ہے، جس میں وفاق اور جوڈیشل کمیشن کو فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ججز کے تبادلے آرٹیکل 2 اے کے منافی ہیں، جبکہ اس عمل میں شفافیت کا فقدان ہے اور وجوہات بھی فراہم نہیں کی گئیں۔

یہ بھی پڑھیں:اسلام آباد ہائیکورٹ میں 3 ججز کے تبادلے کیخلاف کیس کی سپریم کورٹ میں سماعت

درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ میں یہ پٹیشن آرٹیکل 184 کی شق 3 کے تحت دائر کی گئی ہے، اور 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے اس شق کو ختم کرنا غیر آئینی ہے۔ اسی طرح آرٹیکل 175 کی شق 2 میں ترمیم کو بھی چیلنج کیا گیا ہے۔ درخواست کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کو مختلف ہائی کورٹس میں ٹرانسفر کرنا غیر آئینی اقدام ہے، جبکہ سپریم کورٹ کا اختیار سماعت کسی وفاقی آئینی عدالت کو منتقل نہیں کیا جا سکتا۔

مزید کہا گیا ہے کہ ججز کے تبادلے 27ویں آئینی ترمیم کے بعد آرٹیکل 200 میں ترمیم کے ذریعے کیے گئے، جبکہ وفاقی آئینی عدالت اس ترمیم کے تحت قائم ہونے کے باعث اس معاملے کی سماعت نہیں کر سکتی۔

حامد خان نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ وہ چیف جسٹس کی جانب سے ججز ٹرانسفر پر اٹھائے گئے نوٹ کو سراہتے ہیں اور توقع رکھتے ہیں کہ وہ اپنے عہدے کی حرمت برقرار رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس آف پاکستان عدلیہ کے سب سے بڑے منصب پر ہیں اور انہیں عدالت میں اس معاملے پر کردار ادا کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ بار نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر کے درست اقدام کیا ہے، اور ان کی تنظیم صرف سپریم کورٹ کو ہی واحد آئینی عدالت تسلیم کرتی ہے جبکہ وفاقی آئینی عدالت کو وہ ایگزیکٹو کے زیر اثر ادارہ سمجھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:جوڈیشل کمیشن کی جانب سے ججوں کے تبادلے کا معاملہ، ججز کی سینیارٹی کس حد تک متاثر ہوگی؟

صحافی کے سوال پر کہ کیا یہ معاملہ وفاقی آئینی عدالت میں جانا چاہیے، حامد خان نے کہا کہ بیرسٹر گوہر کا مؤقف درست نہیں اور سپریم کورٹ کے پاس آج بھی آرٹیکل 184/3 کا اختیار موجود ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس درخواست میں اسی آئینی شق میں تبدیلی کو بھی چیلنج کیا گیا ہے۔

دوسری جانب درخواست میں یہ بھی مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ بڑی تعداد میں ججز کے تبادلے کیے گئے، جن میں سینئر ترین پیونی جج بھی شامل ہیں، جبکہ جوڈیشل کمیشن میں ان تبادلوں کی کوئی وجوہات فراہم نہیں کی گئیں۔ درخواست گزار کے مطابق بعض ججز نے ایگزیکٹو دباؤ قبول کرنے سے انکار کیا، جس کے بعد انہیں ٹرانسفر کیا گیا، جو بدنیتی پر مبنی اقدام ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق اس درخواست میں آئینی ترامیم، ججز ٹرانسفر کے طریقہ کار اور عدالتی آزادی کے اہم سوالات اٹھائے گئے ہیں، جن پر سپریم کورٹ آئندہ سماعت میں غور کرے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp