نئے عالمی نظام کے بکھراؤ کے بعد کا غیر یقینی دور

جمعہ 8 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

موجودہ عالمی نظام، جو دوسری جنگِ عظیم کے بعد قائم ہوا تھا، اب اپنی مؤثر حیثیت کھو چکا ہے۔ سرد جنگ کے بعد جو امریکی قیادت میں }لبرل ورلڈ آرڈر{ قائم ہوا تھا، وہ اب کمزور پڑ رہا ہے اور اس کی جگہ کوئی واضح یا متفقہ نیا نظام موجود نہیں ہے۔ طاقتور ممالک اب عالمی قوانین اور روایات کو پہلے کی طرح اہمیت نہیں دے رہے، بلکہ ہر ریاست اپنے مفاد کے مطابق فوری فیصلے کر رہی ہے، جس سے عالمی سیاست میں بے یقینی اور تیزی سے تبدیلی پیدا ہو رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:مستقبل کا ورلڈ آرڈر کیا ہوگا؟ روس نے اہم کانفرنس طلب کرلی

اس حوالے سے روسی ’رشیا ٹوڈے‘ میں شائع تجزیے کے مطابق دنیا ایک ایسے عبوری دور میں داخل ہو چکی ہے جہاں پرانا نظام ٹوٹ چکا ہے لیکن نیا نظام ابھی تک واضح نہیں ہو سکا۔ مختلف طاقتیں عالمی اثر و رسوخ، معاشی راستوں، وسائل اور ٹیکنالوجی پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، جس سے مقابلہ مزید سخت ہو رہا ہے۔

مسئلہ صرف پرانے نظام کے ختم ہونے کا نہیں بلکہ یہ بھی ہے کہ اب کوئی واضح نقشہ یا متفقہ تصور موجود نہیں کہ نیا عالمی نظام کیسا ہونا چاہیے۔ ماضی میں جب بھی بڑی تبدیلیاں آئیں تو کم از کم ایک مشترکہ سمت موجود تھی، لیکن اب صورتحال مختلف ہے۔

اگرچہ اقوام متحدہ اور عالمی ادارے ابھی تک موجود ہیں، لیکن ان کی طاقت اور اثر کم ہو چکا ہے۔ ممالک ان اداروں کو صرف اس وقت استعمال کرتے ہیں جب یہ ان کے مفاد میں ہو۔ اسی طرح عالمی معیشت مکمل طور پر نہیں ٹوٹی، لیکن اس میں دراڑیں ضرور بڑھ رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:امریکا، چین اور ایک مختلف مشرق وسطیٰ

تجزیاتی طور پر دیکھا جائے تو دنیا ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں نہ مکمل نظام باقی ہے اور نہ ہی نیا نظام تیار ہے۔ یہ ایک عبوری، غیر مستحکم اور خطرناک دور ہے، جس میں ہر ملک اپنی طاقت کے مطابق راستہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن اس کا کوئی یقینی انجام ابھی سامنے نہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp