چین کا ’لا فانی انسان‘: 40 سالہ اداکار جسے آج بھی بچہ سمجھا جاتا ہے

بدھ 13 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

چین سے تعلق رکھنے والے 40 سالہ اداکار ہو ژیانگ اپنی غیر معمولی ظاہری شخصیت کی وجہ سے دنیا بھر میں توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔

بیجنگ کے رہائشی ہو ژیانگ کی جسمانی نشوونما اور آواز بچپن میں ہی ایک خاص کیفیت کی وجہ سے رک گئی تھی، جس کے باعث وہ 40 سال کی عمر میں بھی بالکل ایک اسکول کے بچے کی طرح نظر آتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: دُنیا کے سب سے چھوٹے قد والے ڈاکٹر گنیش کا خواب کیسے پورا ہوا؟

میڈیا رپورٹس کے مطابق ہو ژیانگ کی قبل از وقت پیدائش ہوئی تھی جس کے بعد 9 سال کی عمر میں ان کا قد بڑھنا بند ہوگیا جبکہ اس کی آواز میں بھی کوئی تبدیلی نہ ہوئی۔

آج بھی جب وہ سڑک پر نکلتے ہیں تو لوگ انہیں بچہ سمجھ کر ان کی تعلیم کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔ تاہم انہوں نے اپنی اس جسمانی کیفیت کو مجبوری بنانے کے بجائے اسے اپنی طاقت بنایا اور اداکاری کے میدان میں قدم رکھا۔

ہو ژیانگ نے 2005 میں مشہور سیٹ کام ‘ہوم ود کڈز’ سے شہرت حاصل کی، جہاں انہوں نے 19 سال کی عمر میں ایک پرائمری اسکول کے طالب علم کا کردار نبھایا۔ اس کے بعد انہوں نے ‘اسٹیپ فادر’ اور ‘ٹنل وارفیئر’ جیسے مقبول ڈراموں میں کام کیا۔

یہ بھی پڑھیں: وہیل چیئر پر دنیا کی سیاحت کرنے والی مہم جُو خواتین

اگرچہ ان کی ظاہری شکل کی وجہ سے انہیں ملنے والے کردار محدود ہوتے ہیں، لیکن ہدایت کار اور ناظرین ان کی پختہ اداکاری اور جذباتی گہرائی کے معترف ہیں۔

ہو ژیانگ کا کہنا ہے کہ وہ ہر ملنے والے کردار کو کمال تک پہنچانا چاہتے ہیں اور یہی ان کی کامیابی ہے۔ ان کی اس ہمت اور لگن نے سوشل میڈیا پر لاکھوں لوگوں کے دل جیت لیے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp