روس کا ایک منفرد طرزِ زندگی اپنانے والا شخص، جو جنوبی امریکا تک پیدل سفر کے ارادے اور ہاتھ سے بنی گاڑی کھینچنے کی وجہ سے سوشل میڈیا پر شہرت حاصل کر چکا تھا، مبینہ طور پر یوکرینی ڈرون حملے میں ہلاک ہوگیا۔
روسی علاقے بریانسک کے گورنر الیگزینڈر بوگوماز کے مطابق بدھ کے روز یوکرین کی سرحد کے قریب واقع گاؤں میں ایک شخص ڈرون حملے میں مارا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: روس کا یوکرین پر قریباً ایک ہزار ڈرونز کا بڑا حملہ، متعدد ہلاکتیں اور درجنوں زخمی
اگرچہ حکام نے مقتول کی شناخت ظاہر نہیں کی، تاہم روسی خبر رساں ادارے نے قانون نافذ کرنے والے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ہلاک ہونے والا شخص سوشل میڈیا پر ‘ساشا دی ہارس’ کے نام سے مشہور تھا۔
ٹیلیگرام چینلز پر شیئر کی گئی تصاویر میں ایک سڑک کنارے لاش کے ساتھ نارنجی رنگ کی وہ مخصوص گاڑی بھی دیکھی گئی، جس پر گھوڑے کی تصویر بنی ہوئی تھی اور جو ساشا کی پہچان سمجھی جاتی تھی۔
Sasha Kon, a 37-year-old traveler "walking to Brazil" with a 661-pound homemade cart in tow, was reportedly killed by a Ukrainian drone strike in Russia's Bryansk region on May 13. Locals had been photographing and encouraging him the day before. https://t.co/mHPb9IH0jX pic.twitter.com/jJ3r0jjb0Y
— Kevin Rothrock (@MrKevinRothrock) May 14, 2026
37 سالہ ساشا، جن کا اصل نام الیگزینڈر بتایا جاتا ہے، گزشتہ ماہ اس وقت انٹرنیٹ پر مقبول ہوئے جب مختلف ڈرائیورز نے انہیں شاہراہوں پر اپنی چھوٹی سی ہاتھ سے تیار کردہ گاڑی کھینچتے ہوئے فلمایا۔ وہ اس گاڑی کو اپنا موبائل گھر قرار دیتے تھے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ساشا نے روس کے مغربی علاقے ریازان سے اپنا سفر شروع کیا تھا اور ان کا مقصد برازیل کے شہر ریو ڈی جنیرو تک پیدل پہنچنا تھا۔
بتایا جاتا ہے کہ وہ روزانہ تقریباً 30 کلومیٹر سفر طے کرتے تھے۔
مزید پڑھیں: یوکرین کے روس پر بڑے پیمانے پر ڈرون حملے، آئل ریفائنری نذرِ آتش، 3 ہلاک
جنوری میں ایک مقامی ویب سائٹ کو دیے گئے انٹرویو میں ساشا نے کہا تھا کہ وہ خود کو آزمانا چاہتے ہیں اور یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ جنوبی امریکا میں وہ کتنے عرصے تک زندہ رہ سکتے ہیں۔
‘انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ انہیں اس سفر کے خطرات کا اندازہ ہے اورکوئی بھی دن ان کی زندگی کا آخری دن ہوسکتا ہے۔’
ٹیلیگرام چینل ‘ماش’ نے ساشا کا ایک آخری انٹرویو بھی جاری کیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اس زندگی میں ہر انسان کا ایک راستہ ہوتا ہے۔
مزید پڑھیں: کینیا کے شہریوں کی یوکرین میں فوجی بھرتی بند کرنے پر روس کا اتفاق
‘قسمت فیصلہ کرتی ہے کہ یہ راستہ مختصر ہوگا یا طویل، لیکن خوشگوار بنانا ہمارے اپنے ہاتھ میں ہوتا ہے۔’
روسی حکام کے مطابق یوکرین کی جانب سے سرحدی علاقوں میں ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جن میں بعض اوقات شہری علاقوں اور عام گاڑیوں کو بھی نشانہ بنایا جاتا ہے۔
رواں ماہ کے آغاز میں بھی بیلگورود علاقے میں ایک ڈرون حملے میں موٹر سائیکل پر سوار 2 نوجوان ہلاک ہوگئے تھے۔














