بنگلہ دیش کے بینکاری شعبے میں شدید اعتماد کا بحران، خراب قرضے خطرناک حد تک بڑھ گئے

ہفتہ 16 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بنگلہ دیش کے بینکاری شعبے کو شدید عوامی بے اعتمادی، بڑھتے ہوئے ناقابلِ وصول قرضوں اور مالی بے ضابطگیوں کے الزامات کے باعث سنگین بحران کا سامنا ہے، جبکہ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ صورتحال نے جمع کنندگان میں اپنے سرمائے کے تحفظ سے متعلق خوف میں اضافہ کر دیا ہے۔ معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق ملک کے بیشتر بینک مالی دباؤ، نقدی بحران اور کمزور انتظامی نظام کے مسائل سے دوچار ہیں، جس کے باعث پورے مالیاتی نظام پر عوامی اعتماد تیزی سے کمزور ہو رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش میں نوٹ چھاپ کر قرض لینے کا رجحان، ماہرینِ معیشت کا انتباہ

بنگلہ دیش بینک کے اعداد و شمار کے مطابق ملک کے بینکاری نظام میں ناقابلِ وصول قرضوں کا حجم تقریباً 5 لاکھ 57 ہزار کروڑ ٹکا تک پہنچ چکا ہے، جو مجموعی تقسیم شدہ قرضوں کا 30.6 فیصد بنتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل صورتحال اس سے بھی زیادہ سنگین ہو سکتی ہے کیونکہ کئی مالیاتی اداروں پر برسوں تک حقیقی اعداد و شمار چھپانے کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق صرف چند بینک ہی نسبتاً مستحکم حالت میں ہیں، جبکہ متعدد بینک شدید مالی اور انتظامی بحران کا شکار ہیں۔ کم از کم 12 بینکوں میں خراب قرضوں کی شرح 70 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ کئی اداروں میں جمع کنندگان کو اپنی رقوم نکلوانے میں مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے۔

ملک کے 62 بینکوں میں سے تقریباً 66 فیصد بینکوں کی مالی حالت کمزور قرار دی جا رہی ہے، جبکہ 23 بینکوں میں سرمایہ کی کمی بڑھ کر تقریباً 2 لاکھ 82 ہزار کروڑ ٹکا تک پہنچ گئی ہے، جس سے چھوٹے سرمایہ کاروں اور کھاتہ داروں میں تشویش مزید بڑھ گئی ہے۔

بنگلہ دیش بینک کے سابق چیف ماہرِ معاشیات ڈاکٹر ایم کے مجیری نے کہا ہے کہ پورا مالیاتی شعبہ، جس میں بینک، غیر بینکی مالیاتی ادارے، انشورنس کمپنیاں اور اسٹاک مارکیٹ شامل ہیں،  ایک بڑے اعتماد کے بحران کا شکار ہے۔ ان کے مطابق قرض فراڈ اور مالی بدانتظامی نے عوامی اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جبکہ بعض بینکوں میں قرض نادہندگی کی شرح 80 فیصد سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش بینک کے نئے گورنر مستقر رحمان نے عہدہ سنبھال لیا

انہوں نے الزام عائد کیا کہ قرض اسکینڈلز میں ملوث بااثر گروہ بعض بینکوں میں ملکیتی مفادات بھی رکھتے ہیں، جبکہ نگران ادارے بے ضابطگیوں کو روکنے میں ناکام رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی اعتماد بحال کرنے کے لیے فراڈ میں ملوث عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی اور مبینہ طور پر خرد برد کی گئی رقوم کی واپسی ناگزیر ہے۔

سابق صدر بنگلہ دیش اکنامک ایسوسی ایشن ڈاکٹر معین الاسلام نے اس بحران کو ’گہری جڑوں والا مسئلہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مؤثر اصلاحات اور بہتر انتظامی نظام کے بغیر عوامی اعتماد کی بحالی ممکن نہیں ہوگی۔ انہوں نے سابق گورنر ڈاکٹر احسن ایچ منصور کو عہدے سے ہٹانے کے فیصلے پر بھی تنقید کی اور کہا کہ اس اقدام نے بینکاری نظام کے بارے میں عوامی تاثر کو مزید متاثر کیا۔

دوسری جانب بنگلہ دیش بینک کے ترجمان عارف حسین خان نے کہا ہے کہ مرکزی بینک انتظامی اصلاحات اور رقوم کی واپسی کے اقدامات کے ذریعے اعتماد بحال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان کے مطابق بڑے پیمانے پر غیر قانونی طور پر منتقل کیے گئے اثاثوں کا سراغ لگانے اور انہیں واپس لانے کے لیے ’چوری شدہ اثاثہ جات کی بازیابی‘ کمیٹی بھی قائم کر دی گئی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ مرکزی بینک نے بینکوں کے بورڈز کی نگرانی سخت کر دی ہے اور بڑے و چھوٹے قرضوں کے نادہندگان کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ ان کی قانونی حیثیت اور شفافیت کو پرکھا جا سکے۔

بحران صرف تجارتی بینکوں تک محدود نہیں رہا بلکہ بنگلہ دیش کا غیر بینکی مالیاتی شعبہ بھی شدید دباؤ کا شکار ہے۔ اطلاعات کے مطابق 20 مالیاتی اداروں کو “خطرناک زون” میں رکھا گیا ہے، جبکہ حکام بعض اداروں کو بند کرنے یا ان کی تحلیل پر غور کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش بینک کا اہم فیصلہ: بینکوں کے فنڈز سے ہونے والی تقریبات میں عملے کی شرکت پر پابندی

ادھر ہزاروں متاثرہ جمع کنندگان نے اپنی رقوم کی واپسی کے لیے احتجاج بھی کیا ہے۔ احتجاج کا سامنا کرنے والے اداروں میں ایف اے ایس فنانس، پریمیئر لیزنگ، فار ایسٹ فنانس، پیپلز لیزنگ اور انٹرنیشنل لیزنگ شامل ہیں۔

شعبے سے وابستہ ذرائع کے مطابق ان اداروں نے مجموعی طور پر تقریباً 76 ہزار کروڑ ٹکا کے قرضے جاری کیے تھے، جن میں سے تقریباً 28 ہزار کروڑ ٹکا اب ناقابلِ وصول قرضوں میں تبدیل ہو چکے ہیں، جس سے بنگلہ دیش کے مالیاتی نظام پر دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp