بنگلہ دیش میں نوٹ چھاپ کر قرض لینے کا رجحان، ماہرینِ معیشت کا انتباہ

جمعہ 24 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ماہرینِ معیشت نے خبردار کیا ہے کہ بنگلہ دیش کی حکومت مرکزی بینک سے نئے نوٹ چھاپ کر قرض لینے پر تیزی سے انحصار کر رہی ہے، جس سے مہنگائی میں مزید اضافہ اور معیشت کو درپیش خطرات بڑھ سکتے ہیں۔

ڈھاکہ میں پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے زیرِ اہتمام جمعرات کو منعقدہ ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ماہرین نے کہا کہ یہ رجحان کمزور ریونیو وصولی اور مہنگے قلیل و متوسط مدتی بینک قرضوں پر بڑھتے ہوئے انحصار کی عکاسی کرتا ہے۔

پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے چیف اکنامسٹ ڈاکٹر احسن ایچ منصور کے مطابق حکومت نے صرف مارچ میں بنگلہ دیش بینک سے 20 ہزار کروڑ ٹکا قرض لیا۔

یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش کےعام انتخابات تاریخی موڑ قرار، نئی حکومت کو معاشی چیلنجز کا سامنا

انہوں نے اس رقم کو ‘ہائی پاورڈ منی’ قرار دیا، یعنی ایسا نیا چھاپا گیا پیسہ جو زرِ گردش میں اضافہ کر کے مہنگائی کو بڑھا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ 18 ماہ کے دوران بنگلہ دیش کی معیشت نے ایک کمزور بحالی کا مرحلہ دیکھا ہے، تاہم ساختی مسائل کے باعث یہ بہتری پائیدار ثابت نہیں ہو رہی۔

‘رواں مالی سال کی دوسری سہ ماہی میں جی ڈی پی کی شرح نمو کم ہو کر تقریباً 3 فیصد رہ گئی، جو کووڈ-19 کے بعد کی کم ترین سطح ہے۔’

مزید پڑھیں: بنگلہ دیشی معیشت کو افراط زر اور غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی کا سامنا، ایشیائی ترقیاتی بینک کی آؤٹ لک رپورٹ جاری

ماہرین نے بینکاری شعبے پر بڑھتے دباؤ پر بھی تشویش کا اظہار کیا، جہاں غیر فعال قرضوں کا حجم تقریباً 30 فیصد تک پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔

اس کے نتیجے میں نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی کی شرح 6 فیصد تک گر گئی ہے، جس سے سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔

سیمینار میں معیشت کو درپیش تین بڑے بیرونی دباؤ کا بھی ذکر کیا گیا، جن میں مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی، بنگلہ دیش کا کم ترقی یافتہ ممالک کی فہرست سے جلد اخراج، اور امریکا کی ٹیرف پالیسیوں سے متعلق غیر یقینی صورتحال شمل تھیں۔

انٹرنیشنل چیمبر آف کامرس بنگلہ دیش کے صدر محبوب الرحمان نے کہا کہ ملک نے اس سے قبل کبھی اتنی طویل مدت تک بلند مہنگائی کا سامنا نہیں کیا۔

مزید پڑھیں: بنگلہ دیش کا غیر ملکی قرض 78 ارب ڈالر سے تجاوز کرگیا

انہوں نے خبردار کیا کہ مزید نوٹ چھاپنے یا سیاسی بنیادوں پر سرکاری اخراجات بڑھانے سے قیمتوں پر دباؤ مزید بڑھے گا۔

انہوں نے کہا کہ کاروباری اعتماد بھی کمزور ہے کیونکہ سرمایہ کاروں کو گیس اور بجلی کی مسلسل فراہمی کے حوالے سے خدشات لاحق ہیں۔

‘اگر مقامی سرمایہ کار پیچھے ہٹیں گے تو غیر ملکی سرمایہ کار بھی ایسا ہی کریں گے۔

مزید پڑھیں: آئی ایم ایف پروگرام میں توسیع، بنگلہ دیش کو مزید مالی سہارا ملنے کی امید

پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے چیئرمین زیدی ستار نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے گرد عدم استحکام اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع عالمی تجارت اور پیداوار کو متاثر کر سکتا ہے، جس کے اثرات بنگلہ ‘دیش پر بھی پڑیں گے۔

انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ 1991 کی طرز پر وسیع اقتصادی اصلاحات متعارف کرائے تاکہ معاشی ترقی کی رفتار بحال ہو اور معیشت کو زیادہ مستحکم بنایا جا سکے۔

تقریب میں شریک حکام اور تجزیہ کاروں نے جرات مندانہ داخلی اصلاحات، بہتر مالیاتی پالیسیوں اور برآمدات میں تنوع پیدا کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا، خصوصاً جہاز سازی کی صنعت کی سرپرستی کی سفارش کی گئی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بکری کے شکار پر آئے اژدھے کو ہاتھ پر ڈسنے کے باوجود شخص دبوچ لیا

’قرضوں میں ڈوبا ملک، افسران شاہی بگھیوں میں‘ سرکاری تقریب پر عوامی و صحافتی حلقوں کی تنقید

طالبان حکومت کے اندر ’موقع پرست عناصر‘ موجود ہیں، نائب سربراہ انٹیلیجنس کا اعتراف

نئے صوبوں کا معاملہ محض شور شرابہ، پی ٹی آئی کو سیاسی مذاکرات کے لیے پہلے جمہوری رویہ اپنانا ہو گا، رانا ثنا اللہ

سپریم کورٹ کے 2 اہم فیصلے: خلع کا حق آئینی قرار، جعلی نکاح نامے سے جائیداد ہتھیانے کی کوشش ناکام

ویڈیو

آزاد کشمیر میں موجودہ صورتحال تشویشناک ہے، ماضی کی حکومتوں نے ذمہ داری نہیں نبھائی، نواز شریف

آبنائے ہرمز پر ایران کا قبضہ برقرار، عوام مہنگے پیٹرول کے لیے تیار ہوجائیں، صدر ٹرمپ کا امریکیوں کو پیغام

ایٹمی پلانٹ بچانے کی انوکھی تدبیر، ہنگری کا ندی میں 2 بڑے بحری جہاز ڈبونے کا فیصلہ

کالم / تجزیہ

چربیلی آگ پر چل کر سچائی ثابت کرنا

مایوس ہونے سے پہلے یہ حساب کتاب بھی کر لیں

سن 47، 1200 پاکستانی اور ایک چابی