عید الاضحیٰ 2026: سمندر پار پاکستانیوں کی جانب سے ریکارڈ ترسیلاتِ زر کی توقع

اتوار 17 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان میں عید الاضحیٰ کے قریب آتے ہی معاشی ماہرین اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے سمندر پار پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی رقوم میں غیر معمولی اضافے کی پیشگوئی کی ہے۔ توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ جون 2026 تک ترسیلات زر کی صورت میں ملکی خزانے کو بڑا سہارا ملے گا۔

تاریخی اہداف اور حالیہ رجحانات

اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز ایسوسی ایشن کے نائب صدر محمد عدنان پراچہ کے مطابق مئی اور جون 2026 کے مہینوں میں ترسیلاتِ زر کا حجم 3.8 ارب ڈالر ماہانہ رہنے کا امکان ہے۔

مزید پڑھیں: بیرون ملک پاکستانیوں کی ترسیلات زر میں اضافہ، اپریل میں 3.53 ارب ڈالر وطن بھیجے گئے

ان کا کہنا ہے کہ سال میں 3 ماہ رمضان المبارک، عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ کے موقع پر اوورسیز پاکستانی بڑی مقدار میں ترسیلات زر پاکستان بھیجتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ حکومت کو سمندر پار پاکستانیوں کے لیے پالیسیاں متعارف کرانا ہوں گی، خصوصاً پراپرٹی کے حوالے سے پالیسی پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، تاکہ اوورسیز اس میں سرمایہ کاری کرسکیں۔

عدنان پرچہ نے کہاکہ اگر آنے والے بجٹ میں اس حوالے سے اقدامات اٹھائے گئے تو یہ ملکی معیشت کے لیے بہتر ثابت ہو سکتا ہے۔ ’اس وقت سب سے زیادہ سعودی عرب، پھر متحدہ عرب عمارات، اس کے بعد برطانیہ اور پھر امریکا سے ترسیلات زر آرہی ہیں۔

مذہبی فریضہ اور سماجی ذمہ داری

بیرونِ ملک مقیم پاکستانی اپنے پیاروں کو قربانی کے جانوروں کی خریداری اور عید کے دیگر اخراجات کے لیے اضافی فنڈز ارسال کر رہے ہیں۔

ڈیجیٹل انقلاب

پاکستان کے ڈیجیٹل پیمنٹ سسٹم کی عرب ممالک کے ’بُنیٰ‘ سسٹم کے ساتھ ہم آہنگی نے رقوم کی منتقلی کو تیز تر اور محفوظ بنا دیا ہے۔ اوپن مارکیٹ اور انٹر بینک میں روپے کی قدر میں استحکام کے باعث تارکین وطن حوالہ ہنڈی کے بجائے قانونی بینکاری ذرائع کو ترجیح دے رہے ہیں۔

سب سے زیادہ رقم کہاں سے آ رہی ہے؟

رپورٹ کے مطابق ترسیلات زر کا سب سے بڑا مرکز بدستور خلیجی ممالک ہیں۔ اس وقت سعودی عرب ماہانہ 800 سے 900 ملین ڈالر کے ساتھ سرفہرست ہے، متحدہ عرب امارات دوسرے بڑے ذریعے کے طور پر سامنے آیا ہے۔ اس کے علاوہ برطانیہ اور امریکا سے بھیجی جانے والی رقوم میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

معیشت پر اثرات

معاشی ماہر سلمان نقوی کا کہنا ہے کہ مئی اور جون کے دوران متوقع 7 ارب ڈالر سے زیادہ کی یہ آمد نہ صرف زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کرے گی بلکہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو کم کرنے میں بھی کلیدی کردار ادا کرے گی۔

مزید پڑھیں: مشرق وسطیٰ کشیدگی کے باوجود ترسیلات زر میں اضافہ، 3.8 ارب ڈالر کی ریکارڈ آمد

انہوں نے کہاکہ عید الاضحیٰ کا سیزن جہاں مذہبی جوش و خروش لاتا ہے، وہیں یہ پاکستان کی لرزتی ہوئی معیشت کے لیے ایک آکسیجن ثابت ہو رہا ہے، جس کا سہرا سمندر پار محنت کشوں کے سر جاتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp