اسرائیل کے مقبوضہ علاقے بیت شمیش میں ایک حساس دفاعی تنصیب کے قریب ہونے والے شدید دھماکے کے بعد آگ کے بلند شعلے اور دھوئیں کے بادل دور دور تک دکھائی دیے، جبکہ واقعے نے اسرائیلی سیکیورٹی اور دفاعی تنصیبات سے متعلق کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ دھماکے کی نوعیت اور ممکنہ نقصان کے حوالے سے تاحال مکمل تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں۔
یہ بھی پڑھیں:بھارت میں اسرائیلی سفارتخانے کے قریب زور دار دھماکا
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق دھماکا مقبوضہ یروشلم کے مغربی علاقے بیت شمیش میں پیش آیا، جہاں اسرائیلی فوج نے فوری طور پر ہنگامی صورتحال سے نمٹنے والی گاڑیوں کی آمد و رفت محدود کر دی۔ عبرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ دھماکا ایک حساس دفاعی تنصیب کے قریب ہوا۔
תיעוד: תושבים באזור בית שמש דיווחו על פיצוץ עז ואש שנראית מרחוק. מראה קצת אפוקליפטי.
מסתבר שמדובר בפיצוץ מבוקר שנעשה בתוך מפעל אזרחי. אין נזק או נפגעים. אפשר להרגע. pic.twitter.com/Xv3qVEFP8Y
— איתי בלומנטל 🇮🇱 Itay Blumental (@ItayBlumental) May 16, 2026
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ متعلقہ فیکٹری میں ہیوی اور لائٹ راکٹ انجن تیار کیے جاتے ہیں، جن میں ایرو ٹو، ایرو تھری، سلور اینکر، براک ایٹ اور براک ایم ایکس میزائل سسٹمز کے انجن بھی شامل ہیں۔ ان اطلاعات کے بعد واقعے کی حساسیت مزید بڑھ گئی ہے۔
روسی میڈیا کے مطابق دھماکے کی اصل وجہ تاحال واضح نہیں ہو سکی، جبکہ ممکنہ جانی نقصان یا زخمیوں سے متعلق بھی کوئی باضابطہ تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
یہ بھی پڑھیں:اسرائیل کا بیروت میں فضائی حملہ، حزب اللہ کا اہم فوجی کمانڈر علی طباطبائی جاں بحق
بعض رپورٹس میں اسرائیلی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ دھماکا دراصل دھماکا خیز مواد کا ’کنٹرولڈ بلاسٹ‘ تھا، تاہم قریبی آبادی کو پیشگی اطلاع نہ دیے جانے پر مقامی سطح پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ واقعے کے بعد علاقے میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔











