افغانستان کے صوبہ بدخشاں میں طالبان کے مقرر کردہ ڈائریکٹر اطلاعات و ثقافت ذبیح اللہ امیری ایک حملے میں ہلاک ہوگئے۔ طالبان حکام نے فیض آباد، بہارک شاہراہ پر ہونے والے حملے میں ان کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔
مزید پڑھیں:طالبان مخالف مزاحمت نئے مرحلے میں داخل، مسلح جدوجہد مقامی کارروائیوں سے منظم بغاوت کی جانب گامزن
ذبیح اللہ امیری کی ہلاکت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب طالبان مسلسل ملک میں مکمل امن و امان قائم ہونے کے دعوے کر رہے ہیں، تاہم اس واقعے نے افغانستان کی سیکیورٹی صورتحال سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
احسانالله کامگار سخنگوی قوماندانی امنیه ولایت بدخشان گفته است که ذبیحالله امیری، رئیس اطلاعات و فرهنگ این ولایت صبح امروز در مسیر فیضآباد-بهارک هدف حمله افراد مسلح موترسیکل سوار قرار گرفته است.
به گفته آقای کامگار او در این حمله جان باخته است.
درهمین حال، سخنگوی قوماندانی… pic.twitter.com/GL70P1WaLS
— Ariana News (@ArianaNews_) July 28, 2026
واقعے کے بعد حملہ آوروں یا محرکات کے بارے میں فوری طور پر کوئی سرکاری تفصیلات جاری نہیں کی گئیں، جبکہ کسی گروپ نے بھی حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
مزید پڑھیں:بدخشان میں طالبان مخالف کارروائیاں تیز، مختلف اضلاع میں جھڑپیں، سیکیورٹی صورتحال کشیدہ
مبصرین کے مطابق طالبان کے ایک سینیئر عہدیدار کو نشانہ بنایا جانا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ افغانستان میں سیکیورٹی چیلنجز بدستور موجود ہیں اور طالبان انتظامیہ کو داخلی سلامتی کے حوالے سے مشکلات کا سامنا ہے۔














