جنگ زدہ غزہ میں جہاں زندگی کے ہر شعبے کو شدید نقصانات پہنچے ہیں، وہیں اب دلہنیں اپنی شادی کی روایات کو برقرار رکھنے کے لیے استعمال شدہ اور مرمت شدہ ملبوسات کا سہارا لینے پر مجبور ہوگئی ہیں۔
جنوبی غزہ کے ایک چھوٹے سے سلائی ورکشاپ میں نسرین الرنتیسی پرانے اور پھٹے ہوئے عروسی لباسوں کو دوبارہ تیار کر کے ایک دم توڑتی ہوئی روایت کو زندہ رکھنے کی کوشش کررہی ہیں۔ جنگ کی وجہ سے بڑھتی ہوئی قیمتوں اور قلت نے نئے ملبوسات کی خریداری کو عام خاندانوں کے لیے ناممکن بنا دیا ہے۔

درآمد کنندگان کا کہنا ہے کہ سامان کی ترسیل میں تاخیر، بلند شپنگ اخراجات اور ملبوسات میں استعمال ہونے والے مٹیریل، جیسے کرسٹل اور ستاروں پر پابندیوں کی وجہ سے قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ اس کے علاوہ غزہ کے کئی ورکشاپس بھی لڑائی کے دوران تباہ ہو چکے ہیں، جس سے مقامی پیداوار بری طرح متاثر ہوئی ہے۔
نسرین الرنتیسی نے بتایا کہ وہ پرانے گاؤنز کو دھو کر، ان کی مرمت کر کے اور نئی شکل دے کر دوبارہ استعمال کے قابل بناتی ہیں، جس کے لیے بجلی کی عدم موجودگی میں سائیکل سے چلنے والی سلائی مشین کا استعمال بھی کیا گیا۔

خام مال کی قیمتوں میں اضافے نے اس بحران کو مزید سنگین کر دیا ہے۔ نسرین کے مطابق جو کپڑا جنگ سے پہلے 120 سے 150 شیکلز (تقریباً 41 سے 51 ڈالرز) میں ملتا تھا، اب اس کی قیمت 500 شیکلز (تقریباً 171 ڈالرز) تک پہنچ چکی ہے۔
اس اضافے نے نہ صرف عروسی لباس بلکہ بچوں کے کپڑوں کی قیمتوں کو بھی عام آدمی کی پہنچ سے دور کر دیا ہے، جس کے باعث غزہ کے لوگ ایک مشکل معاشی چکر میں پھنس کر رہ گئے ہیں۔

غزہ کی 20 لاکھ سے زائد آبادی کی اکثریت بے گھر ہو چکی ہے اور لوگ بمباری سے تباہ شدہ مکانات یا خیموں میں رہنے پر مجبور ہیں۔ ان کٹھن حالات کے باوجود کچھ جوڑے اپنی خوشی ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں اور غزہ میں ہونے والی اجتماعی شادیاں تباہی کے اس دور میں خوشی کے چند لمحات فراہم کرتی ہیں۔

تاہم دکانداروں کا کہنا ہے کہ اب ایک لباس کی قیمت اتنی زیادہ ہوچکی ہے کہ لوگ صرف اسے دیکھ کر ہی واپس لوٹ جاتے ہیں۔
ایک برائیڈل شاپ کی ملازمہ روان شلوف نے بتایا کہ جنگ سے پہلے قیمتیں ہر کسی کی پہنچ میں تھیں، لیکن اب حالات کے باعث لباس کی قیمتیں مضحکہ خیز حد تک بڑھ چکی ہیں۔

غزہ بھر میں دلہنیں اور ان کے اہلخانہ بنیادی ضرورتیں پوری کرنے کے لیے بھی جدوجہد کررہے ہیں۔ 21 سالہ شاہد فائز، جن کی شادی 4 دن بعد ہے، اب بھی ایک مناسب لباس کی تلاش میں در در بھٹک رہی ہیں۔
شاہد فائز کا کہنا ہے کہ وہ اب اسٹائل کی پرواہ نہیں کرتیں، بس اتنا چاہتی ہیں کہ انہیں کوئی نیا لباس مل جائے، لیکن مارکیٹ میں سب سے سستا لباس بھی ایک ہزار ڈالرز سے زائد کا ہے، جبکہ ان کے پاس صرف 200 ڈالرز سے بھی کم رقم موجود ہے۔

انہوں نے افسردہ لہجے میں کہا کہ ان کا پورا مہر بھی ایک لباس کی قیمت کو پورا نہیں کر سکتا، جو ان جیسے بے شمار خاندانوں کی تلخ حقیقت بن چکی ہے۔














