امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے روسی خام تیل تک محدود مدت کے لیے رسائی دینے کے اعلان کے بعد پاکستان سمیت توانائی کے بحران سے دوچار ممالک میں نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ امریکا نے 30 روزہ جنرل لائسنس جاری کیا ہے جس کے تحت کچھ ممالک روسی خام تیل خرید سکیں گے تاکہ عالمی منڈی میں سپلائی کے دباؤ کو کم کیا جا سکے اور توانائی کی قیمتوں میں استحکام لایا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: مشرق وسطیٰ میں پھر کشیدگی، عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ
ذرائع کے مطابق پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ہو سکتا ہے جو اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک کی موجودہ ریفائننگ صلاحیت اور تکنیکی مسائل اس فائدے کو محدود کر سکتے ہیں۔
امریکی محکمہ خزانہ کے سیکریٹری اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ یہ عارضی لائسنس ان ممالک کو سہارا دینے کے لیے جاری کیا گیا ہے جو توانائی کے شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ ان کے مطابق اس اقدام سے عالمی خام تیل کی مارکیٹ میں استحکام آئے گا اور روسی تیل کی وہ سپلائی جو سمندر میں رکی ہوئی ہے، ضرورت مند ممالک تک پہنچ سکے گی۔
توانائی ماہرین کے مطابق اگر پاکستان روس سے رعایتی نرخوں پر خام تیل درآمد کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کسی حد تک کمی آ سکتی ہے مگر یہ کمی اتنی زیادہ نہیں ہو گی جتنی عوام توقع کر رہے ہیں۔
مزید پڑھیے: مشرق وسطیٰ میں پھر کشیدگی، عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ
یاد رہے کہ حالیہ ایران امریکا کشیدگی کے دوران عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا تھا جس کے اثرات پاکستان پر بھی پڑے۔ اس عرصے میں ملک میں پیٹرول کی قیمت تقریباً 240 روپے فی لیٹر سے بڑھ کر 416 روپے فی لیٹر تک جا پہنچی جس سے مہنگائی میں شدید اضافہ ہوا اور عوام کی مشکلات بڑھ گئیں۔
ماہر توانائی ابوبکر احمد کے مطابق پاکستان پہلے ہی محدود پیمانے پر روسی خام تیل درآمد کر چکا ہے تاہم اس کی خصوصیات سعودی یا عرب خام تیل سے مختلف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ روسی تیل کو پاکستان کی ریفائنری میں صاف کیا جائے گا لیکن اس کا پیٹرول پیدا کرنے والا تناسب عرب تیل سے کم ہے جبکہ فرنس آئل کی مقدار زیادہ ہے۔
ابوبکر احمد نے بتایا کہ روسی خام تیل بظاہر سستا لگتا ہے لیکن اس کی ترسیلی لاگت زیادہ ہونے کی وجہ سے مجموعی فرق کم رہ جاتا ہے۔
مزید پڑھیں: ایران امریکا کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں بے چینی برقرار، خام تیل کی قیمت 107 ڈالر سے تجاوز کر گئی
انہوں نے اس کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ روسی تیل تقریباً 52 ڈالر فی بیرل پڑ رہا ہے مگر ٹرانسپورٹ لاگت تقریباً 10 ڈالر فی بیرل ہے جبکہ متحدہ عرب امارات سے خام تیل پر صرف 2 ڈالر فی بیرل خرچ آتا ہے لہٰذا مجموعی طور پر قیمت میں فرق شاید 3 سے 4 فیصد سے زیادہ نہ ہو۔
ان کا کہنا ہے کہ روسی خام تیل میں فرنس آئل کی مقدار زیادہ اور پیٹرول کی پیداوار کم ہوتی ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ عرب ممالک سے خریدے گئے تیل میں پیٹرول تقریباً 30 فیصد اور فرنس آئل 42 فیصد ہوتا ہے جبکہ روسی آئل میں پیٹرول صرف 15 فیصد اور فرنس آئل 50 فیصد تک ہوتا ہے جس سے حقیقی بچت بہت کم رہ جاتی ہے۔
توانائی کے ماہر فراست شاہ نے کہا کہ پاکستان کی ریفائنریز بنیادی طور پر لائٹ خام تیل کے لیے ڈیزائن کی گئی ہیں جبکہ روسی خام تیل نسبتاً ہیوی ہے اس لیے ملک روسی خام تیل کو مکمل طور پر استعمال نہیں کر سکتا اور صرف محدود مقدار میں اسے دوسرے خام تیل کے ساتھ مکس کر سکتا ہے یعنی 10 سے 20 فیصد تک۔
یہ بھی پڑھیے: خام تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی، آبنائے ہرمز کشیدگی اور ایران امریکا تنازع برقرار
فراست شاہ کے مطابق پاکستان نے کئی دہائیوں تک اپنی ریفائنریز کو اپ گریڈ نہیں کیا جس کے باعث توانائی کے شعبے میں بیرونی انحصار بڑھ گیا۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں حکومتیں یہ سمجھتی رہیں کہ چونکہ تیار شدہ پیٹرولیم مصنوعات باہر سے دستیاب ہیں اس لیے مقامی ریفائنریز پر سرمایہ کاری کی ضرورت نہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ سیاسی طور پر یہ فیصلہ وقتی طور پر درست تھا لیکن طویل المدتی بنیادوں پر ملک کے لیے نقصان دہ ثابت ہوا۔
مزید پڑھیں: امریکا نے بھارت کے لیے روسی تیل کی خریداری پر 30 دن کی رعایت دیدی
ماہرین کے مطابق اگر پاکستان اپنی ریفائننگ صلاحیت بہتر بناتا، ہیوی خام تیل پراسیس کرنے والی ٹیکنالوجی متعارف کرواتا اور روسی سپلائی چین کو مؤثر انداز میں استعمال کرتا تو مستقبل میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نسبتاً استحکام لایا جا سکتا ہے۔ تاہم فوری طور پر عوام کو پیٹرول کی قیمتوں میں بڑی کمی کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔









