بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ کے علاقے میرپور کے نواحی علاقے پلوبی میں ایک بچے کے ساتھ زیادتی اور قتل کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرن کو پولیس نے منتشر کردیا ہے۔
یہ واقعہ ڈھاکہ کے مصروف ترین میرپور ٹین چوراہے پر پیش آیا، جہاں مظاہرین دن کے آغاز سے ہی جمع ہونا شروع ہو گئے تھے۔ عینی شاہدین کے مطابق کچھ مظاہرین نے گول چکر پر ٹریفک کو روکنے کی کوشش کی، جس کے باعث آس پاس کے علاقوں میں شدید ٹریفک جام ہوگیا۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش: آئینی اصلاحات کی شقیں منسوخ کرنے پر حزب اختلاف نے احتجاج کی دھمکی دیدی
بعد ازاں پولیس نے سڑک کو کھلوانے اور ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے کارروائی کا آغاز کیا۔ مقامی ذرائع ابلاغ کی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کارروائی کے دوران پولیس اہلکاروں نے کئی مظاہرین پر لاٹھی چارج بھی کیا۔
یہ احتجاج نمازِ جمعہ کے بعد پلو بی میں مقتل بچے کی رہائش گاہ کے قریب شروع ہوا تھا۔ دوپہر کے وقت مظاہرین نے نعرے بازی کرتے ہوئے میرپور ٹین کی طرف مارچ کیا، جہاں انہوں نے واقعے کے ذمہ داروں کے لیے جلد انصاف اور سخت ترین سزا کا مطالبہ کیا۔
عینی شاہدین کے مطابق احتجاج کے دوران میرپور اور اس کے قریبی علاقوں میں ٹریفک کی روانی انتہائی سست ہو گئی تھی۔ مقامی ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے میرپور ماڈل تھانے کے افسر حافظ الرحمان نے بتایا کہ انتظامیہ نے شروع میں ٹریفک میں خلل کے باوجود پرامن احتجاج کی اجازت دی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیشی جیل خانوں میں گنجائش سے دگنے قیدی، متعدد مسائل شدت اختیار کرگئے
انہوں نے واضح کیا کہ جب تک مظاہرین پرامن رہے، پولیس نے ان کے راستے میں کوئی رکاوٹ کھڑی نہیں کی۔ لیکن جب انہوں نے ٹریفک کو مکمل طور پر روکنے کی کوشش کی، جس سے شدید جام لگ گیا، تو پولیس نے مداخلت کر کے انہیں سڑک سے ہٹا دیا۔
مقامی حکام کے مطابق پولیس کی اس کارروائی کے بعد علاقے میں ٹریفک کی روانی دوبارہ معمول پر آگئی ہے۔











