بند فیکٹریاں اب دوبارہ چلیں گی، بنگلہ دیش بینک نے 5 ارب ڈالر کے امدادی پیکج کا اعلان کردیا

ہفتہ 23 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بنگلہ دیش کے مرکزی بینک نے معیشت کی بحالی کے لیے 60 ہزار کروڑ ٹکہ، قریباً 5 ارب ڈالر کے بڑے امدادی پیکج کا اعلان کردیا ہے، جس کا مقصد صنعتی پیداوار کی بحالی، زرعی شعبے کی معاونت اور روزگار کے مواقع میں اضافہ کرنا ہے۔

بنگلہ دیش بینک کے گورنر نے ہفتے کے روز ڈھاکا میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ اس پیکج کے ذریعے قریباً 25 لاکھ افراد کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور تجارتی و کاروباری سرگرمیوں کو دوبارہ فعال بنانے کی کوشش کی جائے گی۔

گورنر کے مطابق کمرشل بینک اپنے وسائل سے 41 ہزار کروڑ ٹکہ فراہم کریں گے، جبکہ بنگلہ دیش بینک 19 ہزار کروڑ ٹکہ ری فنانس کرے گا۔ حکومت دونوں حصوں پر 6 فیصد شرح سود کی سبسڈی دے گی۔

انہوں نے بتایا کہ اس امدادی پیکج کا مقصد بند فیکٹریوں کو دوبارہ فعال کرنا، زرعی پیداوار میں اضافہ کرنا اور کاروباری اداروں کو ورکنگ کیپیٹل فراہم کرنا ہے۔

حکام کے مطابق یہ اقدام معاشی ترقی، برآمدات میں اضافے اور پیداواری صلاحیت بہتر بنانے کی وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے۔

پریس بریفنگ کے دوران گورنر نے ملک کے بینکاری شعبے کے بحران پر غیر معمولی سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہاکہ قریباً 5 لاکھ کروڑ ٹکہ بینکوں سے ناقص قرضوں کے ذریعے چرایا گیا، جن کے لیے مناسب ضمانتیں اور دستاویزات موجود نہیں تھیں۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ اس رقم کا بڑا حصہ بیرون ملک منتقل کیا گیا، جبکہ اس کی واپسی ایک طویل عمل ہوگا، تاہم حکومت اسے اولین ترجیح سمجھتی ہے۔

پیکج کے تحت 20 ہزار کروڑ ٹکہ بند صنعتی اور خدمات کے شعبے کے اداروں کے لیے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ 10 ہزار کروڑ ٹکہ زراعت اور دیہی معیشت کی سرگرمیوں کے لیے رکھے گئے ہیں۔

اسی طرح 5 ہزار کروڑ ٹکہ سی ایم ایس ایم ای سیکٹرز کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ مزید فنڈز برآمدات میں تنوع پیدا کرنے اور شمالی بنگلہ دیش کو زرعی مرکز کے طور پر ترقی دینے کے لیے بھی مختص کیے گئے ہیں۔

مرکزی بینک کی ری فنانسنگ اسکیم کے تحت برآمدی پری شپمنٹ کریڈٹ، گھریلو و چھوٹے کاروبار، لیدر مصنوعات، گرین انویسٹمنٹ، ماہی گیری، بیرون ملک روزگار، اسٹارٹ اپس اور نوجوانوں کے روزگار کے پروگراموں کی معاونت کی جائے گی۔

ماہرینِ معیشت کے مطابق یہ پیکج حالیہ برسوں میں بنگلہ دیش بینک کی جانب سے کیے جانے والے سب سے بڑے معاشی اقدامات میں شمار کیا جا رہا ہے، ایسے وقت میں جب ملک کو بینکاری شعبے کے عدم استحکام، سرمایہ کاری میں سست روی اور زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ جیسے مسائل کا سامنا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp