پاکستان نے بین الاقوامی سمندری حدود میں گلوبل صمود فلوٹیلا کو اسرائیلی قابض فورسز کی جانب سے روکے جانے اور اس میں موجود انسانی حقوق کے کارکنوں کی گرفتاری کے واقعے کی شدید مذمت کی ہے، اور اسے بین الاقوامی قانون اور انسانی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:’فریڈم فلوٹیلا میڈلین نے اپنا مقصد حاصل کر لیا ‘
دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان نے واضح کیا ہے کہ یہ کارروائی بین الاقوامی سمندری حدود میں عمل میں لائی گئی، جس کے نتیجے میں متعدد انسانی ہمدردی کے کارکنوں کو حراست میں لیا گیا، جن میں پاکستانی شہری سعد ادھی بھی شامل ہیں۔
پاکستان نے اس اقدام کو انسانی امدادی مشن کی روک تھام اور بین الاقوامی سمندری قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کی کارروائیاں اسرائیل کے بڑھتے ہوئے جارحانہ بحری اقدامات کے تسلسل کا حصہ ہیں، جو انسانی رسائی کو محدود اور بین الاقوامی کنونشنز کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔

پاکستان نے مطالبہ کیا ہے کہ تمام زیر حراست افراد کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور ان کی گرفتاری کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔
دفتر خارجہ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ پاکستان انسانی ہمدردی کے مشنز کے خلاف کسی بھی جابرانہ اقدام کی مخالفت کرتا ہے اور بین الاقوامی قانون کے تحت شہریوں اور انسانی حقوق کے تحفظ کے اپنے دیرینہ اصولی مؤقف پر قائم ہے۔
یہ بھی پڑھیں:گلوبل صمود فلوٹیلا پر حملہ قابل مذمت، پاکستان کا عالمی برادری سے ایکشن کا مطالبہ
مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان خطے میں موجود اپنے سفارتی مشنز کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے تاکہ بیرون ملک اپنے شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے، اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ زیر حراست افراد کی سلامتی، وقار اور بنیادی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائے۔
پاکستان نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ مسلم دنیا کے مسائل، خصوصاً فلسطینی عوام کے لیے انسانی ہمدردی کی کوششوں کی مسلسل رکاوٹ کے خلاف مسلسل آواز اٹھاتا رہا ہے، اور عالمی برادری پر زور دیتا ہے کہ وہ ایسے غیر قانونی اقدامات کو روکنے کے لیے مشترکہ دباؤ ڈالے اور جنگی و تنازعاتی علاقوں میں انسانی مشنز کے تحفظ کو یقینی بنائے۔














