عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 2 ہفتوں کی کم ترین سطح پر آ گئیں، کیونکہ سرمایہ کاروں کو امید ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدہ طے پانے کے قریب ہے۔
برینٹ خام تیل کی قیمت میں 4.71 ڈالر یا 4.55 فیصد کمی ہوئی، جس کے بعد یہ 98.83 ڈالر فی بیرل پر آ گیا۔ اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 4.57 ڈالر یا 4.73 فیصد گر کر 92.03 ڈالر فی بیرل ہو گیا۔
مزید پڑھیں: وزیراعظم اور فیلڈ مارشل ایران امریکا تنازع حل کرانے کے لیے کوشاں ہیں، کامیابی کے لیے دعاگو ہوں، بلاول بھٹو
قیمتیں 7 مئی کے بعد اپنی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔
امریکی صدر نے ہفتے کے روز کہا تھا کہ واشنگٹن اور ایران ایک ایسے امن معاہدے پر بڑی حد تک مذاکرات مکمل کرچکے ہیں جس کے تحت آبنائے ہرمز دوبارہ کھول دی جائے گی۔
جنگ سے قبل آبنائے ہرمز دنیا بھر میں تیل اور مائع قدرتی گیس کی قریباً 5ویں حصے کی ترسیل کا اہم راستہ تھی۔
تاہم دونوں ممالک کے درمیان اب بھی کئی اہم معاملات پر اختلافات موجود ہیں۔ صدر ٹرمپ نے اتوار کو کہا کہ انہوں نے اپنے نمائندوں کو ہدایت دی ہے کہ ایران کے ساتھ کسی بھی معاہدے میں جلد بازی نہ کی جائے۔
مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق، امن معاہدے اور آبنائے ہرمز کے حوالے سے خدشات کے باوجود اب صورتحال میں بہتری کی امید پیدا ہو گئی ہے، جس سے قلیل مدت میں تیل کی قیمتوں کو کچھ ریلیف مل سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: ایران امریکا مذاکرات میں پیشرفت، کیا ڈونلڈ ٹرمپ معاہدے کے لیے دباؤ میں ہیں؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل معمول پر آنے اور متاثرہ تیل و گیس تنصیبات کی مکمل بحالی میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق مالیاتی منڈیوں کے لیے سب سے اہم سوال یہ ہے کہ آبنائے ہرمز کب اور کن شرائط کے تحت دوبارہ کھولی جائے گی، اور توانائی کی پیداوار جنگ سے پہلے کی سطح تک بحال ہونے میں کتنا وقت لگے گا۔














