ملک بھر میں 26 تا 31 مئی شدید گرمی اور موسمی خطرات کا الرٹ جاری

منگل 26 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

این ڈی ایم اے کے نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر نے 26 سے 31 مئی کے دوران ملک بھر میں متوقع موسمی صورتحال کا تفصیلی جائزہ جاری کرتے ہوئے شدید گرمی کی لہر کا الرٹ جاری کر دیا ہے۔

جائزے کے مطابق ملک کے بیشتر علاقوں میں درجہ حرارت میں نمایاں اضافہ متوقع ہے جبکہ مختلف مقامات پر پارہ 40 سے 48 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: شدید گرمی اور لاپروائی، قربانی کے جانور مختلف بیماریوں میں مبتلا ہونے لگے

وزیراعظم کی ہدایت پر این ڈی ایم اے گرمی کی شدت اور ممکنہ خطرات کے پیش نظر قومی سطح پر تیاریوں کا مسلسل جائزہ لے رہا ہے، جبکہ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز نے پیشگی اقدامات (Anticipatory Actions) شروع کر دیے ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔

این ڈی ایم اے کے مطابق صوبائی سطح پر عوامی آگاہی مہم شروع کر دی گئی ہے، ایمرجنسی رسپانس ٹیمیں تعینات کی جا رہی ہیں، کولنگ سینٹرز قائم کیے جا رہے ہیں اور طبی سہولیات کو بہتر بنایا جا رہا ہے۔

این ای او سی کے مطابق مغربی ہواؤں کے زیر اثر شمالی علاقوں بشمول خطہ پوٹھوہار میں ہلکی بارش کا امکان ہے، تاہم سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے مختلف علاقے شدید گرمی کی لہر کی لپیٹ میں رہیں گے۔

گلگت بلتستان، بالائی خیبرپختونخوا اور آزاد کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں شدید گرمی کے باعث گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے سے لینڈ سلائیڈنگ اور سیلابی صورتحال کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔

مزید پڑھیں: ملک بھر میں شدید گرمی کی لہر برقرار، محکمہ موسمیات کا انتباہ

ہنزہ، نگر، گلگت، چلاس، استور، شگر، چترال، کالام، کوہستان اور دیگر پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ جبکہ متعدد رابطہ سڑکوں کی بندش کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

اسی طرح شمالی علاقوں میں ندی نالوں اور دریاؤں میں طغیانی جبکہ سندھ، پنجاب اور بلوچستان کے مختلف اضلاع میں شدید گرمی کی لہر جاری رہنے کا امکان ہے۔

این ڈی ایم اے نے تمام متعلقہ اداروں کو ہنگامی اقدامات یقینی بنانے اور عوام کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ شہریوں اور سیاحوں کو موسم کی صورتحال سے باخبر رہنے اور ’پاک این ڈی ایم اے ڈیزاسٹر الرٹ‘ ایپ استعمال کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp