امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے ممکنہ معاہدے کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر جلد ’حتمی فیصلہ‘ کریں گے، جبکہ ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ مذاکرات جاری ہیں لیکن تاحال کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پایا۔ دوسری جانب خطے میں کشیدگی برقرار ہے اور لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیاں بھی جاری ہیں۔
🚨 Trump delays final decision on the Iran deal as tensions in the Strait of Hormuz continue to rise.
The US says it’s ready to resume military action if talks fail, while Tehran pushes back on key demands. A fragile ceasefire hangs in the balance as both sides race toward a… pic.twitter.com/x9qZ2D5mmH
— @GlobalPulseNews (@GlobalPuls94092) May 31, 2026
’الجزیرہ‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان کئی ہفتوں سے جاری سفارتی رابطوں کے باوجود دونوں ممالک کسی حتمی سمجھوتے تک نہیں پہنچ سکے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان تبادلہ خیال کا سلسلہ جاری ہے، تاہم کسی حتمی معاہدے کا اعلان قبل از وقت ہوگا۔
انہوں نے امریکی مطالبات پر مبنی حکمت عملی کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران صرف بیانات کے بجائے عملی اقدامات کی بنیاد پر کسی بھی معاہدے کا جائزہ لے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی بحری ناکہ بندی بین الاقوامی قوانین کے خلاف ہے اور پابندیوں میں نرمی کے حوالے سے بھی تہران عملی پیش رفت کا منتظر ہے۔

ادھر ایرانی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ محمد باقر قالیباف نے بھی کہا کہ ایران کسی معاہدے کے بارے میں الفاظ کے بجائے عملی اقدامات کو اہمیت دے گا اور واشنگٹن کی جانب سے ٹھوس پیش رفت کے بغیر کوئی نیا قدم نہیں اٹھایا جائے گا۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے پر جلد فیصلہ کریں گے۔ وائٹ ہاؤس میں صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ہونے والے اہم اجلاس کے بعد بھی اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی کہ دونوں ممالک کسی حتمی سمجھوتے پر پہنچ گئے ہیں یا نہیں۔ مبصرین کے مطابق آبنائے ہرمز کے حوالے سے عائد بعض پابندیوں میں نرمی کسی پیش رفت کا اشارہ ہو سکتی ہے، تاہم اس بارے میں ابھی کوئی واضح اعلان سامنے نہیں آیا۔
علاقائی سطح پر بھی کشیدگی برقرار ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے کہا ہے کہ اس کی افواج مشرق وسطیٰ میں مسلسل متحرک اور چوکس ہیں۔ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے سنگاپور میں شنگری لا ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے اپنے عزم پر قائم ہے۔ انہوں نے اتحادی ممالک پر بھی دفاعی اخراجات بڑھانے پر زور دیا۔
ادھر بنیامین نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی افواج جنوبی لبنان میں دریائے لیتانی کے شمال تک پیشقدمی کر چکی ہیں، جو لبنان میں جاری فوجی کارروائیوں کے دائرہ کار میں توسیع کی نشاندہی کرتا ہے۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ آئندہ دنوں میں بیروت اور مغربی بقاع کے علاقوں میں مزید کارروائیاں بھی کی جا سکتی ہیں۔

اسرائیلی فوج کے مطابق شمالی اسرائیل میں متعدد فضائی حملے کے سائرن بجائے گئے اور لبنان سے داغے گئے کئی پروجیکٹائلز کو فضا میں تباہ کر دیا گیا، جبکہ ایک پروجیکٹائل کریات شمونہ کے قریب گرا۔ تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدہ نہ صرف دونوں ممالک کے تعلقات بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کی سیاسی و سیکیورٹی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے، تاہم موجودہ حالات میں مذاکراتی عمل ابھی فیصلہ کن مرحلے میں داخل نہیں ہوا۔














