جمہوریہ کانگو (ڈی آر سی) کے مشرقی علاقوں میں ایبولا وائرس کے پھیلاؤ میں خطرناک تیزی دیکھی جا رہی ہے، جہاں صرف دو دن کے اندر مصدقہ کیسز کی تعداد تقریباً دوگنی ہو گئی ہے۔ صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر ٹیڈروس اذانوم گیبریاسس متاثرہ صوبے ایتوری کے دارالحکومت بونیا پہنچ گئے ہیں اور مقامی آبادی پر زور دیا ہے کہ وہ بیماری کے خلاف جنگ میں مرکزی کردار ادا کرے۔
🇨🇩 Over 225 confirmed dead in DR Congo's new Ebola outbreak with NO approved Vaccine, NO approved treatment and over 1,000 confirmed cases.
Meanwhile, response teams are pushing for safe burial practices after cultural traditions kept driving new infections. – Reuters. pic.twitter.com/lSdH8Q9fUP
— Khalifa Updates (@TrenchesAndCity) May 30, 2026
عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس اذانوم گیبریاسس نے کانگو کے مشرقی شہر بونیا کا دورہ کیا، جو اس وقت ایبولا وبا کا مرکز بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی برادری اور کانگو کی حکومت وبا پر قابو پانے کے لیے مل کر کام کر رہی ہیں، تاہم مقامی کمیونٹی کی شمولیت اور تعاون کے بغیر اس بیماری کو روکنا ممکن نہیں۔
کانگو کے حکام کے مطابق جمعے کے روز ملک میں ایبولا کے مصدقہ کیسز کی تعداد 225 تک پہنچ گئی، جبکہ صرف دو روز قبل یہ تعداد 121 تھی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تیز رفتار اضافے نے صحت کے حکام کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بھارت میں ایبولا کا پہلا مشتبہ کیس سامنے آگیا، یوگنڈا سے آنے والی خاتون قرنطینہ منتقل
یہ وبا ایبولا وائرس کی نایاب اور خطرناک قسم ’بُنڈی بُگیو‘ کے باعث پھیل رہی ہے، جس کے لیے فی الحال کوئی منظور شدہ ویکسین یا مخصوص علاج دستیاب نہیں۔ عالمی ادارۂ صحت نے اس صورتحال کو عالمی صحت کی ہنگامی حالت قرار دے رکھا ہے، جبکہ طبی امدادی تنظیم ایم ایس ایف نے اسے تاریخ کی تیزی سے پھیلنے والی ایبولا وباؤں میں سے ایک قرار دیا ہے۔
حکام کے مطابق ملک بھر میں 1,028 مشتبہ کیسز اور 220 سے زائد مشتبہ اموات بھی ریکارڈ کی جا چکی ہیں۔ وائرس سرحد پار کرتے ہوئے پڑوسی ملک یوگنڈا تک بھی پہنچ چکا ہے، جہاں نو مصدقہ کیسز اور ایک ہلاکت رپورٹ ہوئی ہے۔
Officials have updated their estimates of the outbreak’s size and international health organizations are warning of the risk of further spread https://t.co/8O68asMkK9
— Bloomberg (@business) May 31, 2026
وبا سے نمٹنے کے لیے کانگو نے ٹیسٹنگ، رابطوں کی نگرانی اور متاثرہ افراد کی تلاش کا عمل تیز کر دیا ہے۔ یورپی یونین نے طبی امداد روانہ کی ہے جبکہ امریکا نے 112 ملین ڈالر سے زائد امداد فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ اس کے باوجود بیماریوں کے کنٹرول اور روک تھام کے لیے افریقی مراکز کا کہنا ہے کہ عالمی فنڈنگ گزشتہ سال کے مقابلے میں نصف سے بھی کم رہ گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:عالمی ہیلتھ ایمرجنسی کا اعلان: پاکستان بھر کے ہوائی اڈوں پر ایبولا وائرس کی اسکریننگ سخت
ماہرین کے مطابق مشرقی کانگو میں جاری مسلح تنازعات، باغی گروہوں کی سرگرمیاں اور صحت مراکز پر حملے وبا پر قابو پانے کی کوششوں میں بڑی رکاوٹ بن رہے ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو اموات کی شرح 30 سے 50 فیصد تک پہنچ سکتی ہے، تاہم ادارے کو امید ہے کہ ماضی کی طرح اس بار بھی کانگو ایبولا کے اس خطرناک پھیلاؤ پر قابو پانے میں کامیاب ہو جائے گا۔













