امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ تقریباً 3 ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے زیر غور معاہدے کی متعدد شقوں میں مزید سختی کر دی ہے، جس کے بعد مجوزہ ڈیل ایک بار پھر غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہو گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران ڈیل کے قریب ہیں، مگر جلد بازی نقصان دہ ہوگی، صدر ٹرمپ کا فوکس نیوز کو انٹرویو میں دعویٰ
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق واشنگٹن نے نئی ترامیم کے ساتھ معاہدے کا مسودہ دوبارہ تہران کو بھجوا دیا ہے، جبکہ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کو جواب دینے میں کئی روز لگ سکتے ہیں۔ دوسری جانب آبنائے ہرمز، ایران کے جوہری پروگرام اور خطے کی سیکیورٹی سے متعلق معاملات بدستور مذاکرات کا مرکزی محور بنے ہوئے ہیں۔
الجزیرہ نے امریکی ذرائع ابلاغ کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ممکنہ جنگ بندی معاہدے کی بعض اہم شقوں میں تبدیلیاں کرتے ہوئے انہیں مزید سخت بنا دیا ہے۔ یہ معاہدہ امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان تقریباً 3 ماہ سے جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے خاتمے کے لیے تیار کیا جا رہا ہے، تاہم تازہ ترامیم کے بعد مذاکراتی عمل مزید طول پکڑ سکتا ہے۔
US close to a 'very good deal' on Iran, says US President Donald Trump, while speaking to a private television channel. pic.twitter.com/uXFzVIvhE9
— Pakistan TV Digital (@PakistanTVcom) May 31, 2026
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کی جانب سے تجویز کردہ تبدیلیوں کے بعد معاہدے کا نیا فریم ورک ایرانی قیادت کو غور و خوض کے لیے واپس بھیج دیا گیا ہے۔ اگرچہ یہ واضح نہیں کیا گیا کہ کن نکات میں تبدیلی کی گئی ہے، تاہم امریکی ویب سائٹ ایکسیوس نے رپورٹ کیا ہے کہ ٹرمپ نے بعض اہم امور، خصوصاً ایران کے جوہری مواد کے مستقبل اور اس کے انتظام سے متعلق شقوں کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا ہے۔
ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار نے ایکسیوس کو بتایا کہ صدر ٹرمپ کو آگاہ کیا گیا ہے کہ ایران کو نئی تجاویز پر ردعمل دینے میں کم از کم 3 دن لگ سکتے ہیں۔ عہدیدار کے مطابق ایرانی قیادت موجودہ حالات میں محدود ذرائع مواصلات استعمال کر رہی ہے، جس کے باعث رابطے اور مشاورت کا عمل سست روی کا شکار ہے۔

امریکی حکام پرامید ہیں کہ بالآخر کسی نہ کسی معاہدے تک پہنچا جائے گا، تاہم اس کے وقت کے بارے میں کوئی حتمی پیش گوئی ممکن نہیں۔ ایک سینیئر امریکی اہلکار نے کہا کہ واشنگٹن صدر ٹرمپ کے مطالبات کو معاہدے کا حصہ بنانے کے لیے ضروری وقت دینے پر آمادہ ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ آئندہ چند روز یا ایک ہفتے کے اندر صورتحال زیادہ واضح ہو جائے گی۔
یاد رہے کہ موجودہ جنگی صورتحال کا آغاز 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد ہوا تھا، جس کے نتیجے میں خطے میں کشیدگی میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ اس کے بعد مختلف سفارتی ذرائع کے ذریعے جنگ بندی اور سیاسی حل کی کوششیں جاری ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا کشیدگی میں نرمی کی امید، خام تیل کی قیمتیں نیچے آگئیں
ذرائع کے مطابق معاہدے کے لیے امریکی شرائط میں 2 نکات کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ پہلا یہ کہ ایران مستقل طور پر جوہری ہتھیار تیار نہ کرنے کی ضمانت دے، جبکہ دوسرا آبنائے ہرمز کو عالمی تجارتی اور توانائی کی ترسیل کے لیے دوبارہ مکمل طور پر کھولا جائے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی تیل کی سپلائی کا تقریباً 20 فیصد حصہ گزرتا ہے۔
The United States warned on Saturday it was "more than capable" of resuming its war with Iran after President Donald Trump said any peace deal must adhere to his red lines, including Tehran never being able to develop nuclear weapons. https://t.co/EFj1jmn44J pic.twitter.com/znAK36IAFu
— AFP News Agency (@AFP) May 30, 2026
دوسری جانب ایران کی مسلح افواج کے ’مرکزی کمانڈ ہیڈکوارٹر خاتم الانبیا‘ نے ہفتے کے روز ایک بیان میں آبنائے ہرمز پر ملک کے کنٹرول کا اعادہ کرتے ہوئے خبردار کیا کہ قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والے غیر ملکی تجارتی اور عسکری جہازوں کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے۔
ایران مسلسل اس مؤقف کا اعادہ کرتا رہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے اور وہ جوہری ہتھیار بنانے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ اسی تناظر میں مارچ 2025 میں امریکی قومی انٹیلی جنس کی سابق ڈائریکٹر تلسی گیبارڈ نے کانگریس کے سامنے بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ واشنگٹن کا جائزہ اب بھی یہی ہے کہ ایران جوہری ہتھیار تیار نہیں کر رہا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ کی جانب سے شرائط مزید سخت کیے جانے سے مذاکراتی عمل پیچیدہ ہو سکتا ہے، تاہم اگر فریقین کسی مشترکہ نقطے پر متفق ہونے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ معاہدہ نہ صرف جاری جنگ کے خاتمے بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔













