فلپائن کے فعال آتش فشاں ماؤنٹ مایون کے قریب آسمان پر دکھائی دینے والی ایک پراسرار روشن شے نے سوشل میڈیا پر یو ایف او سے متعلق نئی قیاس آرائیوں کو جنم دے دیا تاہم ہارورڈ یونیورسٹی کے معروف نظریاتی طبیعیات دان پروفیسر ایوی لوب نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے اس کی سائنسی وضاحت پیش کر دی۔
یہ بھی پڑھیں: یو ایف او فائلز جاری ہونے کے بعد نئی بحث: حقیقت، راز یا محض غلط فہمیاں؟
یہ واقعہ 25 مئی کو اس وقت پیش آیا جب فلپائن کے ماؤنٹ مایون کے اوپر آسمان پر ایک سبز رنگ کا روشن گولہ تیزی سے گزرتا دکھائی دیا جسے ماہرین نے شہابِ ثاقب قرار دیا۔
اس کے فوراً بعد آتش فشاں سے نکلتے لاوے کے پس منظر میں ایک سفید روشن دائرہ نمودار ہوا جس نے دیکھنے والوں کو حیران کر دیا۔
واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد کئی صارفین نے دعویٰ کیا کہ یہ ایک نامعلوم اڑن شے (یو ایف او) تھی جو آتش فشاں کے عقب سے نمودار ہوئی۔
کچھ صارفین نے اسے ماورائے زمین مخلوق کی موجودگی سے بھی جوڑ دیا۔
مزید پڑھیے: گلاسگو میں یو ایف او کانفرنس: ’کیا خلائی مخلوق ہمارے درمیان موجود ہے‘ پر گفتگو ہوگی
تاہم ہارورڈ کے پروفیسر ایوی لوب نے ان قیاس آرائیوں کو رد کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے میں خلائی مخلوق کے ملوث ہونے کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے۔
ان کے مطابق ویڈیو میں نظر آنے والی روشنی غالباً ایک سیٹلائٹ تھی جس پر سورج کی روشنی منعکس ہو رہی تھی۔
انہوں نے کہا کہ زمین کے گرد اس وقت 10 ہزار سے زائد مواصلاتی سیٹلائٹس گردش کر رہے ہیں اس لیے ایسی روشنی کا دکھائی دینا کوئی غیر معمولی بات نہیں۔
Harvard professor gives verdict on UFO seen rising from behind volcano after meteor strike https://t.co/bWDAf88JxX
— Daily Mail (@DailyMail) May 31, 2026
دوسری جانب اس واقعے نے ایک ایسے وقت میں توجہ حاصل کی ہے جب حالیہ دنوں میں وائٹ ہاؤس کی جانب سے یو ایف اوز سے متعلق بعض خفیہ دستاویزات منظر عام پر آنے کے بعد دنیا بھر میں ان پراسرار اشیا کے بارے میں دلچسپی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: پینٹاگون نے 80 برس پرانے راز افشا کردیے، اڑن طشتریوں سے متعلق خفیہ فائلیں بالاخر جاری
ماہرین کے مطابق جدید سائنسی شواہد کے بغیر کسی بھی غیر معمولی منظر کو یو ایف او قرار دینا درست نہیں اور اکثر ایسے واقعات کی وضاحت قدرتی یا تکنیکی عوامل سے کی جا سکتی ہے۔














