آئی سی سی کا ایک اور اہم فیصلہ، میدان میں اب گلابی گیند بھی چلے گی

پیر 1 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے ٹیسٹ کرکٹ کو مزید مؤثر بنانے اور خراب روشنی کے باعث کھیل ضائع ہونے کے دیرینہ مسئلے پر قابو پانے کے لیے ایک انقلابی قدم اٹھانے کا اعلان کیا ہے۔

پیر کو کرکٹ کی عالمی گورننگ باڈی کے اعلان کے مطابق اب متوقع خراب روشنی کی صورت میں کھیل کو زیادہ سے زیادہ ممکن بنانے کے لیے روایتی ٹیسٹ میچز میں بھی ’گلابی رنگ کی گیندوں‘ کے استعمال کی آزمائش کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں:آئی سی سی کا فرنچائز کرکٹ کے خلاف بڑا ایکشن، کینیڈا کی رکنیت بھی معطل

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے اپنے اعلامیے میں واضح کیا ہے کہ اس کے ایگزیکٹو بورڈ نے ’دونوں ٹیموں کی پیشگی منظوری کے ساتھ‘ ٹیسٹ میچز میں گلابی گیند کے استعمال کے ٹرائلز کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔

اس کے علاوہ عالمی کرکٹ ادارے نے میچ آفیشلز اور مختلف اسٹیڈیمز کے لیے جدید ’لائٹنگ ٹیکنالوجی‘ پر نئی تحقیق کی منظوری بھی دی ہے تاکہ کم روشنی کی وجہ سے ضائع ہونے والے قیمتی اوورز کو کم سے کم کیا جا سکے۔

بھارت کے شہر احمد آباد میں ہونے والے آئی سی سی کے اہم اجلاس کے بعد کونسل کے سربراہ جے شاہ کا کہنا تھا کہ ’اجلاس نے آئی سی سی کی حکمرانی، انتظامیہ اور کرکٹ کی عالمی ترقی کے عزم کو مضبوط کیا ہے‘۔

ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں ’خراب روشنی‘ہمیشہ سے ایک متنازع اور مایوس کن پہلو رہا ہے۔ روایتی ٹیسٹ میچوں میں استعمال ہونے والی ’سرخ گیند‘ مدھم یا ابر آلود موسم کی روشنی میں بلے بازوں اور فیلڈرز کو آسانی سے نظر نہیں آتی، جس کی وجہ سے امپائرز کو اکثر کھیل جلدی ختم کرنا پڑتا ہے۔

اس کے برعکس محدود اوورز (ونڈے اور ٹی 20) میں استعمال ہونے والی ’سفید گیند‘ اگرچہ واضح نظر آتی ہے، لیکن وہ 5 دن کے طویل فارمیٹ کی سختی اور پائیداری کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی اور جلد خراب ہو جاتی ہے۔

مزید پڑھیں:آسٹریلوی بولر مچل اسٹارک نے بنائے پنک بال کرکٹ میں نئے ریکارڈ

اس کا حل نکالنے کے لیے ماضی میں ’ڈے نائٹ‘کے ٹیسٹ میچز شروع کیے گئے جہاں فلڈ لائٹس کے نیچے ’گلابی گیند‘ کا استعمال کامیاب رہا۔ اب اسی تجربے کو عام ٹیسٹ میچوں میں روشنی کی کمی کا مقابلہ کرنے کے لیے استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔

آئی سی سی کا یہ فیصلہ ٹیسٹ کرکٹ کے مستقبل کو محفوظ اور تماشائیوں کے لیے دلکش بنانے کی جانب ایک بڑا قدم ہے، جس کے دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں

کھیل کے معیار اور وقت میں بہتری

اکثر دیکھا گیا ہے کہ سنسنی خیز مراحل پر خراب روشنی کے باعث میچ ڈرا ہو جاتے ہیں، جس سے شائقین اور کھلاڑیوں دونوں کی مایوسی بڑھتی ہے۔ گلابی گیند کا استعمال کھیل کو مقررہ وقت تک جاری رکھنے میں مددگار ثابت ہوگا۔

کپتانوں اور ٹیموں کے لیے نیا چیلنج

چونکہ گلابی گیند کی اس آزمائش کے لیے ’دونوں ٹیموں کی پیشگی منظوری‘ لازمی قرار دی گئی ہے، اس لیے یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ کپتان اور کوچز اس تبدیلی کو کتنی جلدی قبول کرتے ہیں، کیونکہ گلابی گیند کی سوئنگ اور برتاؤ سرخ گیند سے مختلف ہوتا ہے۔

براڈکاسٹرز اور اسٹیڈیم انتظامیہ کو فائدہ

کھیل کا وقت ضائع نہ ہونے سے ٹی وی براڈکاسٹرز کے اشتہارات کا نقصان نہیں ہوگا اور اسٹیڈیم میں موجود تماشائیوں کو بھی پورا میچ دیکھنے کو ملے گا۔ لائٹنگ ٹیکنالوجی پر نئی تحقیق کی منظوری یہ ظاہر کرتی ہے کہ آئی سی سی اب روایتی طریقوں کے بجائے جدید سائنس کے ذریعے کرکٹ کے مسائل حل کرنے پر توجہ دے رہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

انسٹاگرام پر 90 منٹ تک کی طویل ویڈیوز پوسٹ کرنے کا نیا فیچر متعارف

سی پیک نے معیشتوں کو جوڑا، چین پاکستان انفارمیشن کوریڈور ذہنوں کو جوڑے گا، عطا اللہ تارڑ

سیکیورٹی فورسز کے 67 بڑے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز: داعش کے 50 سے زائد دہشتگرد ہلاک، 100 سے زائد گرفتار

پاکستان کو بدنام کرنے کی نئی سازش پکڑی گئی، طالبان انٹیلی جنس  کا اعترافی بیانات پر مبنی منفی منصوبے پر کام جاری

شاندانہ گلزار کے بیان پر علی امین گنڈاپور کا سخت ردعمل، مبینہ لیکڈ آڈیو سامنے آگئی

ویڈیو

پاکستانی ہر حال میں کشمیریوں کے ساتھ ہیں، شاہراہ دستور پر ارکان پارلیمنٹ اور عوام کا کشمیریوں سے اظہار یکجہتی

5 باہمت بہنوں نے روایتی ذائقوں کو روزگار کا ذریعہ بنا لیا، کوئٹہ کے رامین ریسٹورنٹ کی منفرد کہانی

چار دیواری نہ سیکیورٹی، پنو عاقل کے 105 سال پرانے تھانے میں قانون کے محافظ کیسے کام کرتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

27 اکتوبر، یوم سیاہ: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

تحریک انصاف : رُل تے گئے آں پر چس بڑی آئی اے

درختوں پر جھولے اچھے لگتے ہیں، لاشیں نہیں