آزاد کشمیر اسمبلی میں مہاجرین مقیم پاکستان کی 12 نشستوں کو ختم کرنے کے مطالبے اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے دیگر مطالبات پر غور و خوض کے لیے ریاست کی سیاسی جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) 3 جون کو مظفرآباد میں طلب کرلی گئی۔
وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کی زیرصدارت آزاد کشمیر کی صورت حال پر آج اہم اجلاس ہوا، جس میں وفاقی مذاکراتی کمیٹی نے ایکشن کمیٹی کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔
مزید پڑھیں: مسائل حل ہونے کے باوجود تصادم کا راستہ، جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی انتشار کی راہ پر گامزن
ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی 9 جون کی احتجاج کی کال اور کچھ روز قبل مظفرآباد میں ہونے والے مذاکرات پر بات چیت ہوئی۔
اجلاس میں وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور، اپوزیشن لیڈر شاہ غلام قادر سمیت پیپلز پارٹی اور ن لیگ سے تعلق رکھنے والے دیگر سیاسی رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔
اس کے علاوہ وفاقی مذاکراتی کمیٹی میں شامل وفاقی وزرا سمیت دیگر رہنما بھی شریک ہوئے اور وزیراعظم کو ایکشن کمیٹی کے ساتھ ہونے والی گفت و شنید سے آگاہ کیا۔
واضح رہے کہ 30 مئی کو مظفرآباد میں وفاقی مذاکراتی کمیٹی اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان مذاکرات ہوئے تھے، تاہم ایکشن کمیٹی نے مہاجرین کی 12 نشستوں کو ختم کرنے کے مطالبے سے دستبردار نہ ہوتے ہوئے 9 جون کو احتجاج کی کال برقرار رکھی۔
آج مظفرآباد میں ہونے والے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے اجلاس میں عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ ایک ماہ کا راشن جمع کرلیں، 9 جون کو ریاست بھر میں مکمل لاک ڈاؤن ہوگا۔
یاد رہے کہ 2023 میں عوامی ایکشن کمیٹی نے احتجاج کرتے ہوئے آٹے اور بجلی کی قیمتوں میں کمی جیسے مطالبات منظور کرائے تھے، جس کے بعد انہیں عوام میں پذیرائی ملی۔
گزشتہ برس ستمبر میں بھی عوامی ایکشن کمیٹی نے ایک بڑا احتجاج کیا اور 38 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا۔
آزاد کشمیر حکومت کا دعویٰ ہے کہ ایکشن کمیٹی کے 36 مطالبات پورے کردیے گئے ہیں، تاہم اشرافیہ کی مراعات اور مہاجرین کی نشستیں ختم کرنے کے مطالبات پر کمیٹیاں کام کررہی ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اگر سمجھتی ہے کہ وہ عوام میں اتنی مقبول ہے تو الیکشن میں حصہ لے اور پھر اپنی مرضی کی قانون سازی کرے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر حکومت بار بار بلیک میل ہوکر ایکشن کمیٹی کے مطالبات پورے کرتی رہے گی تو پھر ہر کوئی اپنے مطالبات منوانے کے لیے جتھے لے کر حملہ آور ہوگا۔














