حکومت اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان جاری مذاکرات گزشتہ روز کسی حتمی اور مثبت نتیجے تک نہ پہنچ سکے، جس کے بعد ایکشن کمیٹی نے 9 جون کو ہڑتال کی اپنی کال برقرار رکھنے کا اعلان کر دیا۔ حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے دوران بارہا لچک اور مفاہمت کا مظاہرہ کیا گیا، تاہم عوامی مسائل کے حل اور ریاستی استحکام کو ترجیح دینے کے بجائے احتجاج اور ہڑتال کے راستے پر اصرار کیا گیا، جس سے صورتحال کے حوالے سے نئے سوالات جنم لے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر حکومت اور عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مذاکرات کیوں ناکام ہوئے؟
حکومت اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان ہونے والے مذاکرات کسی مثبت اور حتمی نتیجے تک پہنچنے میں ناکام رہے، جس کے بعد 9 جون کو ہڑتال کی کال بدستور برقرار رکھنے کا فیصلہ سامنے آیا ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق مذاکراتی عمل کے دوران حکومت نے مسلسل لچک اور مفاہمت کا مظاہرہ کیا اور تمام متعلقہ امور پر بات چیت کے دروازے کھلے رکھے، تاہم اس کے باوجود فریقین کسی قابلِ قبول نتیجے پر نہ پہنچ سکے۔

حکومتی مؤقف کے مطابق ایک ایسے وقت میں جب عوامی مسائل کے حل، معاشی سرگرمیوں کے تسلسل اور ریاستی استحکام کو ترجیح دی جانی چاہیے تھی، جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے ہڑتال اور احتجاج کے راستے پر قائم رہنے کے فیصلے نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر مذاکرات جاری تھے اور مسائل کے حل کے لیے بات چیت کا عمل موجود تھا تو پھر ایسی کون سی مجبوری تھی جس کے باعث ایکشن کمیٹی نے ہڑتال کے آپشن کو ترجیح دی۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی جمہوری معاشرے میں احتجاج ایک آئینی اور قانونی حق ضرور ہے، تاہم جب مذاکرات کے مواقع موجود ہوں تو ہڑتال کو اولین ترجیح دینا عوامی مفاد کے حوالے سے بحث کا موضوع بن جاتا ہے۔ ان کے مطابق مسلسل ہڑتالوں اور احتجاجی سیاست کا سب سے زیادہ اثر عام شہریوں، تاجروں، مزدوروں، طلبہ اور یومیہ اجرت پر کام کرنے والے افراد پر پڑتا ہے، جن کی روزمرہ زندگی اور معاشی سرگرمیاں براہِ راست متاثر ہوتی ہیں۔
حکومتی حلقے یہ مؤقف بھی اختیار کر رہے ہیں کہ جس قیادت کا منشور مسائل کے حل کے بجائے مسلسل احتجاج اور دھرنوں پر مبنی ہو، وہ عوامی خدمت کے بجائے سیاسی کشیدگی کو فروغ دینے کا سبب بن سکتی ہے۔ ان کے مطابق ذمہ دار قیادت کی پہچان یہ ہوتی ہے کہ وہ مسائل کے حل کے لیے قابلِ عمل راستے تلاش کرے، نہ کہ ایسے اقدامات اختیار کرے جو معمولاتِ زندگی کو متاثر کریں۔
یہ بھی پڑھیں:جموں کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے متحرک رہنما شوکت نواز میر کون ہیں؟
ذرائع کے مطابق حکومت نے مذاکرات کے ذریعے معاملات کو سلجھانے کی کوشش جاری رکھی اور مختلف تجاویز پر غور بھی کیا، تاہم ایکشن کمیٹی کی جانب سے ہڑتال کے فیصلے پر اصرار نے مذاکراتی عمل کو نتیجہ خیز بنانے میں رکاوٹ پیدا کی۔ حکومتی نمائندوں کا کہنا ہے کہ مذاکرات سے راہِ فرار اور احتجاج پر مسلسل اصرار کسی سنجیدہ عوامی حکمتِ عملی کے بجائے سیاسی ہٹ دھرمی کا تاثر پیدا کرتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق جب ہر مرحلے پر مفاہمت اور مذاکراتی کوششوں کو رد کیا جائے تو عوام کے ذہنوں میں فریقین کی نیت، ترجیحات اور حقیقی مقاصد کے بارے میں سوالات جنم لینا فطری امر ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں عوام کو نعروں اور دعوؤں کے بجائے عملی نتائج کا جائزہ لینا چاہیے اور یہ دیکھنا چاہیے کہ کون سا فریق مسائل کے حل کے لیے مؤثر کردار ادا کر رہا ہے۔

ادھر عوامی حلقوں میں بھی یہ بحث جاری ہے کہ آیا ہڑتال واقعی آخری اور ناگزیر راستہ تھی یا یہ فیصلہ پہلے سے طے شدہ حکمتِ عملی کا حصہ تھا۔ مبصرین کے مطابق اگر مذاکراتی عمل جاری رہتا اور تمام ممکنہ راستے آزما لیے جاتے تو شاید کسی متفقہ حل تک پہنچنا ممکن ہو سکتا تھا۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ آزاد کشمیر کے عوام سکون، ترقی، معاشی استحکام اور معمولاتِ زندگی کے تسلسل کے خواہاں ہیں۔ ان کے مطابق ایسی سیاسی حکمتِ عملی کی ضرورت ہے جو مسائل کے حل، باہمی مفاہمت اور ریاستی استحکام کو فروغ دے، نہ کہ ہر چند ماہ بعد ہڑتالوں اور احتجاجی سرگرمیوں کے ذریعے نظامِ زندگی کو مفلوج کرنے کا سبب بنے۔ حکومتی حلقوں نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ مسائل کے حل کے لیے مذاکرات کے دروازے بدستور کھلے رہیں گے اور عوامی مفاد کو ہر صورت مقدم رکھا جائے گا۔














