نیا پاکستان سرٹیفکیٹس اب سعودی ریال اور اماراتی درہم میں بھی دستیاب، منافع کی نئی شرحیں جاری

منگل 2 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے نیا پاکستان سرٹیفکیٹس (این پی سیز) سعودی ریال اور متحدہ عرب امارات کے درہم میں بھی جاری کرنے کا اعلان کر دیا ہے، تاہم ان کرنسیوں پر منافع کی شرح امریکی ڈالر کے مقابلے میں قدرے کم رکھی گئی ہے۔

مزید پڑھیں:اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں 16 ملین ڈالر کا اضافہ

اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری کیے گئے سرکلر کے مطابق تمام بینکوں کو آگاہ کر دیا گیا ہے کہ وزارتِ خزانہ نے سعودی ریال (SAR) اور اماراتی درہم (AED) میں بھی نیا پاکستان سرٹیفکیٹس جاری کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ ساتھ ہی مختلف کرنسیوں میں سرمایہ کاری پر منافع کی نئی شرحیں بھی جاری کر دی گئی ہیں۔

اعلان کے مطابق سعودی ریال اور اماراتی درہم میں سرمایہ کاری پر 3 ماہ کے لیے 6.50 فیصد، 6 ماہ کے لیے 6.75 فیصد اور ایک سال کے لیے 7 فیصد منافع دیا جائے گا۔ 3 سالہ اور 5 سالہ سرٹیفکیٹس پر بالترتیب 7.25 فیصد اور 7.50 فیصد منافع مقرر کیا گیا ہے۔

امریکی ڈالر میں سرمایہ کاری کرنے والوں کو 3 ماہ کے لیے 6.75 فیصد، 6 ماہ کے لیے 7 فیصد اور ایک سال کے لیے 7.25 فیصد منافع ملے گا، جبکہ 3 اور 5 سالہ مدت کے لیے شرح منافع بڑھا کر بالترتیب 7.50 فیصد اور 7.75 فیصد کر دی گئی ہے۔

دوسری جانب پاکستانی روپے میں سرمایہ کاری پر سب سے زیادہ منافع کی پیشکش کی گئی ہے۔ روپے میں 3 ماہ کے لیے 11.75 فیصد، 6 ماہ کے لیے 12 فیصد اور ایک سال کے لیے 12.25 فیصد منافع مقرر کیا گیا ہے، جبکہ 3 اور 5 سالہ سرٹیفکیٹس پر بالترتیب 12.50 فیصد اور 12.75 فیصد منافع دیا جائے گا۔

مزید پڑھیں:اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا اکاؤنٹ کھولنے کے عمل کو آسان بنانے کا فریم ورک متعارف

یورو میں سرمایہ کاری پر سب سے کم منافع رکھا گیا ہے، جہاں 3 ماہ کے لیے 4.75 فیصد، 6 ماہ کے لیے 5.25 فیصد اور ایک سال کے لیے 5.50 فیصد شرح منافع مقرر کی گئی ہے۔

مالیاتی ماہرین کے مطابق نیا پاکستان سرٹیفکیٹس بیرونِ ملک پاکستانیوں کے لیے پاکستان میں سرمایہ کاری کا ایک پرکشش ذریعہ بن چکے ہیں۔ اسٹیٹ بینک کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق 2020 میں روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ پروگرام کے آغاز سے اب تک مجموعی طور پر 12 ارب 74 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کی رقوم پاکستان منتقل کی جا چکی ہیں، جن میں سے 62 فیصد سے زائد سرمایہ نیا پاکستان سرٹیفکیٹس میں لگایا گیا۔

اعداد و شمار کے مطابق روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس کے ذریعے آنے والی مجموعی رقوم میں سے قریباً 8.15 ارب ڈالر مقامی معیشت میں استعمال ہو چکے ہیں، جبکہ پاکستان پر واجب الادا قابلِ واپسی خالص ذمہ داری قریباً 2.44 ارب ڈالر رہ گئی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

انڈر 18 ہاکی ایشیا کپ: پاکستان نے ملائیشیا کو شکست دے کر کانسی کا تمغہ جیت لیا

کالعدم ایکشن کمیٹی کشمیر کاز کو نقصان پہنچانے کی راہ پر گامزن، حقیقت کھل کر سامنے آگئی

ایکشن کمیٹی سے اب بھی مذاکرات کے لیے تیار، قانون توڑا گیا تو کارروائی ہوگی، وزیراعظم آزاد کشمیر

غزہ جنگ بندی: حماس کے قاہرہ میں اہم مذاکرات شروع، دوسرے مرحلے پر مشاورت جاری

ایکشن کمیٹی کے بیشتر مطالبات پورے کردیے، سڑکوں پر آنا مسائل کا حل نہیں، طارق فضل چوہدری

ویڈیو

گلگت بلتستان میں کس کی حکومت بن رہی ہے؟ آزاد کشمیر میں انتشار پھیلانے والوں کو سخت پیغام

گلگت بلتستان میں حکومت کے بدلے 28ویں آئینی ترمیم؟ الیکشن کون جیت رہا ہے؟

مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا کے امن کے لیے ناگزیر قرار، اقوام متحدہ میں پاکستان کا دوٹوک مؤقف

کالم / تجزیہ

ریاست کے ساتھ کھڑے ہونا جرم نہیں

ٹرمپ نیتن یاہو تلخی اور مشرق وسطیٰ کا بدلتا نقشہ

28 ویں ترمیم تو آنی ہی آنی ہے