پاکستان نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار پر ایران سے متعلق حساس انٹیلی جنس اور جوہری معاملات کے پیغامات امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو تک پہنچانے کے الزامات کو سختی سے مسترد کردیا۔
الزامات بے بنیاد اور قیاس آرائیوں پر مبنی قرار
سوشل میڈیا پر متعدد اکاؤنٹس نے ایسی من گھڑت رپورٹس پھیلائیں جن میں دعویٰ کیا گیا کہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے واشنگٹن میں حالیہ ملاقاتوں کے دوران ایران سے متعلق حساس انٹیلی جنس معلومات اور جوہری معاملات سے متعلق پیغامات امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو تک پہنچائے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان نے ان الزامات کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد، قیاس آرائیوں پر مبنی اور جاری سفارتی عمل کو نقصان پہنچانے کی کوشش قرار دیا۔
اسحاق ڈار کی جانب سے کوئی پیغام نہیں پہنچایا گیا، پاکستان
پاکستان نے واضح کیاکہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی جانب سے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کو کسی بھی قسم کی ایرانی انٹیلی جنس معلومات یا جوہری معاملات سے متعلق کوئی پیغام نہیں پہنچایا گیا۔
دفتر خارجہ کے مطابق اس نوعیت کے دعوے حقیقت سے عاری ہیں اور ان کا مقصد جاری سفارتی کوششوں کو سبوتاژ کرنا ہے۔
پاکستان کا کہنا ہے کہ یہ الزام نامعلوم انٹیلی جنس ذرائع اور محض قیاس آرائیوں پر مبنی ہے، جبکہ اس کی تائید میں نہ کوئی دستاویزی ثبوت پیش کیا گیا ہے اور نہ ہی کسی آزاد ذریعے سے اس کی تصدیق کی گئی ہے۔
پاکستانی مؤقف کے مطابق اس خبر کے سامنے آنے کا وقت بھی خاص اہمیت کا حامل ہے۔ ایسے وقت میں جب امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی رابطے ایک نازک مرحلے میں داخل ہیں، بعض مخالف عناصر ثالثی اور سفارتی عمل کو متاثر کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ من گھڑت خبر کے ذریعے پاکستان کو ایک ایسے جغرافیائی سیاسی تنازع میں گھسیٹنے کی کوشش کی گئی جو پہلے ہی حساس نوعیت اختیار کر چکا ہے، جبکہ اس کا مقصد ثالثی کے عمل کو نقصان پہنچانا بھی تھا۔
حساس مذاکرات کے دوران گمراہ کن بیانیوں کا استعمال
پاکستان نے کہاکہ اس نوعیت کے بیانیے عموماً حساس سفارتی مذاکرات کے دوران سامنے آتے ہیں تاکہ فریقین کے درمیان بداعتمادی پیدا کی جا سکے، سیاسی دباؤ بڑھایا جا سکے اور مذاکراتی مؤقف کو مزید سخت بنایا جا سکے۔
اسلام آباد نے ایک بار پھر واضح کیاکہ پاکستان ہمیشہ بات چیت، کشیدگی میں کمی اور علاقائی تنازعات کے پرامن حل کی حمایت کرتا آیا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ جاری مذاکرات کو نشانہ بنانے والی معلوماتی مہمات کا مقصد سفارت کاری کی جگہ بحران اور تصادم کے بیانیے کو فروغ دینا ہوتا ہے، تاہم غلط معلومات اور گمراہ کن پروپیگنڈے کو حساس سفارتی عمل میں رکاوٹ بننے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔














