امریکی کانگریس کے 2 ریپبلکن اراکین نے وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کو ایک خط کے ذریعے خبردار کیا ہے کہ اگر بیرونی انٹیلیجنس قانون کی توسیع نہ کی گئی تو ملکی سلامتی کے لیے اہم ڈیٹا جمع کرنے کے نظام میں ایک بڑا اور خطرناک تعطل پیدا ہو سکتا ہے۔
اراکینِ اسمبلی نے ڈیموکریٹس پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ اس اہم ترین قانون کی مدت میں توسیع کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا میں حکومتی شٹ ڈاؤن کے باعث ایک ہزار سے زائد پروازیں منسوخ، سیاسی کشمکش جاری
واضح رہے کہ فارن انٹیلیجنس سرویلنس ایکٹ کی دفعہ 702 امریکی انٹیلیجنس ایجنسیوں کو یہ قانونی اجازت دیتی ہے کہ وہ کسی بھی انفرادی وارنٹ کے بغیر غیر ملکی اہداف کی مواصلاتی گفتگو اور ڈیٹا جمع کر سکیں۔
نائن الیون کے دہشت گردانہ حملوں کے بعد متعارف کرائے گئے اس قانون کے حامیوں کا ماننا ہے کہ یہ ملکی دفاع اور قومی سلامتی کا ایک انتہائی ناگزیر ہتھیار ہے، جبکہ دوسری طرف ناقدین اس قانون کے تحت ملنے والے وسیع اختیارات اور شہریوں کی آزادیوں کی ممکنہ خلاف ورزیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔

امریکی صحافتی ذرائع کے مطابق ریپبلکن سینیٹرز ٹام کاٹن اور چک گراسلے نے وزیرِ خارجہ مارکو روبیو پر زور دیا ہے کہ وہ 12 جون کی آخری تاریخ سے قبل غیر ملکی انٹیلیجنس ڈیٹا کی جمع آوری میں ممکنہ ‘بڑے تعطل’ کے لیے ابھی سے تیاری پکڑیں کیونکہ سینیٹ میں ڈیموکریٹس اس کی توسیع کو روک رہے ہیں۔
یہ موجودہ تعطل دراصل ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے انٹیلیجنس کے شعبے میں کی جانے والی ایک حالیہ تقرری کی مخالفت سے جڑا ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ’ ڈیموکریٹس صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر بھروسہ نہیں کرتے‘، امریکا میں 38 روزہ حکومتی شٹ ڈاؤن برقرار
خط میں روبیو سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ ان تمام انٹیلیجنس اہداف کی فہرست تیار کریں جو اس قانون کی مدت ختم ہونے سے متاثر ہو سکتے ہیں اور معلومات کے حصول کے لیے دیگر ‘قانونی اور آئینی’ راستے تلاش کریں۔
اگرچہ کانگریس اس دوران بات چیت جاری رکھنے کے لیے مختصر مدت کی توسیع کرتی رہی ہے، تاہم 100 نشستوں والی سینیٹ میں اس کی مستقل تجدید کے لیے 60 ووٹوں کی بھاری اکثریت درکار ہے، اور اگر یہ قانون ختم ہو بھی جائے تو انٹیلیجنس ایجنسیوں کے پاس وارنٹ پر مبنی دیگر قانونی راستے موجود رہیں گے۔














