بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کی چیئرپرسن سینیٹر روبینہ خالد نے کہا ہے کہ جن افراد کے بیانات سے بی آئی ایس پی سے مستفید ہونے والے خاندانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں، انہیں معذرت کرنی چاہیے۔
اگرچہ روبینہ خالد نے کسی کا نام نہیں لیا، تاہم انہوں نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ کے حالیہ ریمارکس کا حوالہ دیا۔
مزید پڑھیں: بی آئی ایس پی کو عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا، آپس کی تقسیم کے بجائے دنیا سے مقابلہ کرنا ہوگا، بلاول بھٹو
گزشتہ ہفتے نجی ٹی وی کے پروگرام میں رانا ثنا اللہ نے دعویٰ کیا تھا کہ بی آئی ایس پی کا ڈیٹا خصوصاً پنجاب کے حوالے سے درست نہیں، پروگرام میں بدعنوانی موجود ہے اور یہ پروگرام لوگوں کو بھکاری بنانے کے سوا کوئی مقصد پورا نہیں کر رہا۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے روبینہ خالد نے کہا کہ یہ کہنا درست نہیں کہ بی آئی ایس پی لوگوں کو بھکاری بنا رہا ہے۔ یہ پروگرام ان افراد کے لیے ہے جو محنت مزدوری کرکے روزگار کماتے ہیں، لیکن جب انہیں مالی معاونت کی ضرورت پیش آتی ہے تو ریاست کی ذمہ داری ہے کہ ان کی عزتِ نفس مجروح کیے بغیر ان کی مدد کرے۔
انہوں نے کہاکہ بی آئی ایس پی لوگوں کو بھکاری نہیں بناتا بلکہ انہیں بھکاری بننے سے بچاتا ہے۔
روبینہ خالد نے ایسے بیانات دینے والوں سے اپیل کی کہ وہ آئندہ اس قسم کے تبصروں سے گریز کریں۔
انہوں نے کہاکہ اس طرح کے ریمارکس توہین آمیز ہیں اور کسی کو بھی دوسروں کی تضحیک کا حق حاصل نہیں۔ جن خاندانوں کے جذبات ان بیانات سے مجروح ہوئے ہیں، ان سے معذرت کی جائے۔
چیئرپرسن بی آئی ایس پی نے کہاکہ وہ پروگرام کی بہتری کے لیے دی جانے والی تجاویز کا خیرمقدم کرتی ہیں، تاہم اس کے خلاف توہین آمیز زبان استعمال نہیں ہونی چاہیے۔
انہوں نے مزید کہاکہ سیاسی مقاصد کے لیے بی آئی ایس پی کو نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔
روبینہ خالد کے مطابق آصف علی زرداری اور شہباز شریف کو بی آئی ایس پی پر مکمل اعتماد حاصل ہے۔
انہوں نے کہاکہ نادرا کے بعد بی آئی ایس پی کا ڈیٹا بیس ملک کا سب سے بڑا ڈیٹا بیس ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ کہنا کہ اس کا ڈیٹا غلط ہے یا اس حوالے سے عمومی نوعیت کے الزامات لگانا مناسب نہیں۔ ’کسی ادارے کو بنانے میں برسوں لگ جاتے ہیں، جبکہ اسے نقصان پہنچانے کے لیے ایک دن ہی کافی ہوتا ہے۔‘














