کہتے ہیں مصنوعی ذہانت یا اے آئی لوگوں کو ملازمتوں سے محروم نہیں کرے گی بلکہ بیروزگار وہ ہوسکتے ہیں جو اے آئی کے استعمال سے واقف نہیں۔ تاہم ایک خدشہ بہرحال اپنی جگہ ہے کہ مختلف فیلڈز بشمول بینکاری میں آنے والے جونیئرز کام سیکھنے سے محروم ضرور ہوسکتے ہیں کیوں کہ جس تحقیق کے لیے طویل وقت اور مشق درکار ہوتی تھی وہ اب اے آئی کی بدولت سیکنڈوں کا کھیل بن کر رہ گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اے آئی کے بڑھتے اثرات، خواتین کی ملازمتیں اگلے 10 سال میں ختم ہو جائیں گی؟
ایسے ہی خیالات کا اظہار عالمی سرمایہ کاری بینک گولڈمین سیچز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈیوڈ سولومن نے کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اے آئی ملازمتوں کے خاتمے کے بجائے کام کے طریقہ کار کو تبدیل کر رہی ہے جبکہ بینک آئندہ برسوں میں بھی نئے ملازمین کی بھرتی جاری رکھے گا۔
بلومبرگ کے پوڈکاسٹ اوڈ لاٹس میں گفتگو کرتے ہوئے سولومن نے بتایا کہ گولڈمین سیچز رواں سال تقریباً 2,400 سے 2,500 انٹرنز کو شامل کرے گا جبکہ جولائی میں مستقل بنیادوں پر بھی اسی نوعیت کی نئی بھرتیاں کی جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ اگلے 3 برسوں میں بینک کی بھرتیوں میں معمولی کمی آ سکتی ہے تاہم اسے ملازمتوں میں بڑے پیمانے پر کمی یا مصنوعی ذہانت کے باعث روزگار کے خاتمے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔
سولومن کے مطابق سنہ 2021 میں بینک نے 3,000 سے زائد انٹرنز بھرتی کیے تھے جبکہ موجودہ تعداد کورونا وبا سے پہلے کے معمول کے قریب ہے۔ بینک کو توقع ہے کہ سال 2026 میں بھی مجموعی افرادی قوت میں اضافہ ہوگا۔
ان کا مؤقف مصنوعی ذہانت کے اثرات سے متعلق ان خدشات کے برعکس ہے جن کا اظہار بعض ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سربراہان کر رہے ہیں۔ مثال کے طور پر اینتھروپک کے چیف ایگزیکٹو ڈاریو امودی نے خبردار کیا تھا کہ مصنوعی ذہانت ابتدائی سطح کی دفتری ملازمتوں کو بڑے پیمانے پر متاثر کر سکتی ہے۔
دوسری جانب اپولو گلوبل مینجمنٹ کے چیف اکنامسٹ ٹورسٹن سلوک اور اوبر کے چیف آپریٹنگ آفیسر اینڈریو میکڈونلڈ بھی اس رائے کے حامی ہیں کہ فی الحال مصنوعی ذہانت کے باعث بڑے پیمانے پر ملازمتوں کے خاتمے کے واضح شواہد موجود نہیں ہیں۔
مزید پڑھیے: اے آئی کی تیز رفتار پیش قدمی سے کونسی ملازمتیں خطرے میں؟ بل گیٹس نے بتا دیا
گولڈمین سیچز کے چیف اکنامسٹ یان ہیٹزیئس کی تحقیق بھی یہی اشارہ دیتی ہے کہ مصنوعی ذہانت بعض شعبوں میں وقتی تبدیلیاں لا سکتی ہے تاہم طویل مدت میں بے روزگاری کی شرح میں نمایاں اضافے کا امکان نہیں۔
اگرچہ گزشتہ سال اکتوبر میں سامنے آنے والی ایک داخلی یادداشت میں بھرتیوں کی رفتار کم ہونے اور ممکنہ سائزنگ ڈاؤن کا ذکر کیا گیا تھا، تاہم بینک انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس کی نئی حکمت عملی ون جی ایس 3.0 کا مقصد ملازمین کی تعداد کم کرنا نہیں بلکہ ان کی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا ہے۔
سولومن کے مطابق مصنوعی ذہانت کے ذریعے ایک ہی ٹیم پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ کام انجام دے سکتی ہے جس سے پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔
مزید پڑھیں: مصنوعی ذہانت ملازمتیں ختم نہیں بلکہ پیدا کررہی ہے، یورپ کے مرکزی بینک کا دعویٰ
تاہم انہوں نے ایک اور تشویش کا اظہار بھی کیا۔ ان کے مطابق سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ جونیئر بینکرز سیکھنے کے مواقع سے محروم نہ ہو جائیں کیونکہ آج مصنوعی ذہانت چند سیکنڈ میں ایسے جوابات فراہم کر دیتی ہے جن کے لیے پہلے طویل تحقیق اور عملی مشق درکار ہوتی تھی۔
سولومن نے اپنے کیریئر کے ابتدائی دنوں کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ جب انہوں نے مالیاتی شعبے میں کام شروع کیا تو اس وقت فوری قیمتوں کے ڈیجیٹل نظام موجود نہیں تھے۔ انہیں وال اسٹریٹ جرنل سے سیکیورٹیز کی قیمتیں نقل کرکے گراف پیپر پر حساب کتاب کرنا پڑتا تھا اور یہی عمل انہیں مارکیٹ کو سمجھنے میں مدد دیتا تھا۔
یہ بھی پڑھیے: نیا عالمی مشن: کیا اب ہم انسانی اور اے آئی تخلیق میں فرق کر سکیں گے؟
ان کے بقول مصنوعی ذہانت یقیناً کام کو تیز اور مؤثر بنا رہی ہے لیکن نئی نسل کے ملازمین کے لیے بنیادی مہارتوں اور عملی تجربے کا حصول بدستور انتہائی اہم ہے۔














