لاہور چرس برآمدگی کیس: مجرم کی 11 سالہ سزا مکمل، عمر قید کے مساوی قرار

بدھ 10 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں عمر قید کی سزا پر اہم فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ ملزم نے 11 سالہ قید کاٹ لی ہے جو اس کیس میں عمر قید کے مساوی سمجھی جا سکتی ہے، لہٰذا موجودہ سزا مزید کسی سختی کی ضرورت نہیں۔

لاہور میں 14.5 کلو گرام چرس برآمدگی کیس میں مجرم آصف علی کی عمر قید کی سزا سے متعلق کیس کی سماعت جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے کی۔

دورانِ سماعت عدالت نے ریمارکس دیے کہ 11 سال کی قید مکمل ہو چکی ہے جو اس نوعیت کے مقدمات میں عمر قید کے برابر شمار کی جا سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: شوہر کے قتل پر سزا یافتہ خاتون کو سپریم کورٹ سے جزوی ریلیف مل گیا

عدالت نے یہ بھی ہدایت کی کہ جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں دی جانے والی 6 ماہ اضافی قید کو کم کرکے 15 دن کر دیا جائے۔

سماعت کے دوران جسٹس ہاشم کاکڑ نے استفسار کیا کہ عمر قید کے ساتھ جرمانہ کتنا عائد کیا گیا تھا، جس پر وکیل نے بتایا کہ ایک لاکھ روپے جرمانہ ہے اور عدم ادائیگی کی صورت میں مزید 6 ماہ قید بھی شامل ہے۔

ملزم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ 2015 سے گرفتار ہیں اور پرانے قانون کے تحت سزاؤں میں معافی ان کا قانونی حق ہے۔

مزید پڑھیں: زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ

 انہوں نے مزید کہا کہ جیل ریکارڈ کے مطابق بغیر معافیوں کے سزا 2040 تک بنتی ہے۔

سماعت کے دوران جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اس کیس میں فورینزک ٹیسٹ کے لیے مطلوبہ پروٹوکولز پر عمل نہیں کیا گیا۔

عدالت نے دلائل سننے اور کیس کے مختلف قانونی پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد ریمارکس دیے کہ موجودہ حالات میں 11 سال قید کی سزا کافی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp