وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی جانب سے انکوائری کے حکم کے بعد تھرپارکر میں اونٹنی کی آنکھیں نکالنے کے افسوسناک واقعے میں پولیس نے 6 ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرکے 2 ملزمان کو گرفتار کر لیا جبکہ دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ میں حملے کا شکار اونٹنی ‘چاندنی’ کی کامیاب سرجری، صحتیابی کا سفر شروع
پولیس کے مطابق متاثرہ اونٹنی کے مالک کی شکایت پر کھینسر پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ اسٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) نے تصدیق کی کہ 2 ملزمان کو حراست میں لے لیا گیا ہے جبکہ باقی نامزد ملزمان کی تلاش جاری ہے۔
متاثرہ اونٹنی کے مالک اور گاؤں بگھل رند کے رہائشی نے میڈیا کو بتایا تھا کہ چند افراد نے اونٹنی کو اغوا کرکے ایک باڑے میں باندھ دیا اور کئی روز تک تشدد کا نشانہ بنایا جس دوران اس کی آنکھیں بھی نکال دی گئیں۔
پولیس ترجمان کے مطابق یہ واقعہ تقریباً 10 روز قبل یونین کونسل چار نور، تحصیل ڈاہلی کے ایک گاؤں میں پیش آیا تھا۔ ایف آئی آر کے مطابق اونٹنی کے مالک اور دیگر افراد نے تلاش کے بعد جانور کو خان محمد رند نامی گاؤں کے ایک باڑے میں پایا جہاں اس کے پاؤں رسیوں سے بندھے ہوئے تھے۔
شکایت کنندہ کا مؤقف ہے کہ جب باڑے کے مالکان سے پوچھ گچھ کی گئی تو متعدد افراد جمع ہو گئے اور مؤقف اختیار کیا کہ اونٹنی ان کی زمین میں داخل ہو کر چارہ کھا جاتی تھی۔ ایف آئی آر کے مطابق ملزمان نے اونٹنی کو کئی روز تک قید میں رکھ کر بھوکا پیاسا رکھا اور تشدد کا نشانہ بنایا۔
مالک کا کہنا ہے کہ جانور واپس لینے کی کوشش پر انہیں دھمکیاں بھی دی گئیں۔ پولیس سے رجوع کرنے سے قبل متاثرہ خاندان نے معاملے کے حل کے لیے مقامی عمائدین اور پنچایت سے بھی رابطہ کیا تھا۔
واقعے کے بعد تھرپارکر لائیو اسٹاک ڈپارٹمنٹ نے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر اجے کمار روپانی کی سربراہی میں ایک تکنیکی کمیٹی تشکیل دی جس نے موقع پر جا کر تحقیقات اور زخمی اونٹنی کا طبی معائنہ کیا۔
ابتدائی رپورٹ کے مطابق متاثرہ جانور 13 سالہ دودھ دینے والی دھاٹی نسل کی اونٹنی ہے جس کے ساتھ 4 ماہ کا بچہ بھی موجود ہے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ بااثر افراد نے اونٹنی کو پکڑ کر قید رکھا اور اسے شدید جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا۔
مزید پڑھیے: سندھ: معذور کردی گئی اونٹنی اپنے پیروں پر کھڑی ہوگئی، مصنوعی ٹانگ کا تجربہ کامیاب
ویٹرنری ماہرین کی رپورٹ کے مطابق لاٹھیوں اور بھاری اشیا سے بار بار حملوں کے نتیجے میں اونٹنی کی دائیں آنکھ مکمل طور پر ضائع ہو گئی اور اس کی بینائی ہمیشہ کے لیے ختم ہو چکی ہے جبکہ بائیں آنکھ بھی شدید متاثر اور سوجن کا شکار پائی گئی۔ مزید طبی معائنے کے ذریعے نقصان کی مکمل نوعیت کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ اونٹنی کی گردن، ٹانگوں اور گھٹنوں پر رسیوں کے گہرے نشانات موجود ہیں جو طویل عرصے تک باندھے رکھنے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ بھوک، پیاس اور مسلسل تشدد کے باعث جانور اس قدر کمزور ہو چکا ہے کہ اسے چلنے پھرنے اور چرنے میں بھی دشواری کا سامنا ہے۔
لائیو اسٹاک ڈپارٹمنٹ نے اونٹنی کے علاج کے لیے ہنگامی بنیادوں پر ادویات، زخموں کی دیکھ بھال اور خصوصی نگرانی کا انتظام کیا ہے جبکہ عملے کو روزانہ کی بنیاد پر جانور کی حالت کا جائزہ لینے کی ہدایت دی گئی ہے۔
مزید پڑھیں: سکھر میں بہیمانہ تشدد کا شکار اونٹنی علاج کے لیے کراچی منتقل
ڈاکٹر اجے کمار روپانی نے کہا کہ تحقیقات کی رپورٹ اعلیٰ حکام کو ارسال کر دی گئی ہے تاکہ بے زبان جانور پر ظلم کے مرتکب افراد کو قانون کے مطابق انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔













