چینی سمندروں میں غیرملکی جاسوسی کا انکشاف، کچھووں’ اور مچھلیوں’ کا استعمال

جمعہ 12 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

چین کی وزارتِ ریاستی سلامتی نے دعویٰ کیا ہے کہ غیرملکی جاسوسی ادارے حساس سمندری ڈیٹا اکٹھا کرنے کے لیے سنسرز سے لیس جانداروں کا استعمال کررہے ہیں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم وی چیٹ پر جاری ایک بیان میں وزارت نے ‘گہرے نیلے سمندر کے نیچے، تیز لہریں امنڈ رہی ہیں’ کے عنوان سے خبردار کیا کہ چین کے سمندری خطوں میں ایک ‘پوشیدہ خفیہ جنگ’ جاری ہے۔ حکام نے اسے قومی سلامتی کے لیے ایک ‘خفیہ خطرہ’ قرار دیتے ہوئے سمندری حدود کی کڑی نگرانی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: چین نے امریکا کے خفیہ جوہری تجربات کے الزامات کی تردید کردی

رپورٹ کے مطابق ان جاسوسی تکنیکوں میں ‘جاسوس کچھوے’ اور ‘جاسوس مچھلیاں’ جیسے بڑے سمندری جاندار شامل ہیں، جن کے جسموں کے ساتھ جدید سنسرز منسلک پائے گئے ہیں۔

یہ جاندار چینی پانیوں میں گھومتے ہوئے سمندری ماحول کا حساس ڈیٹا، جیسے پانی کا درجہ حرارت، نمکیات اور سمندری لہروں کی رفتار کو حقیقی وقت (ریل ٹائم) میں ریکارڈ کرتے ہیں۔ وزارت نے ان جانداروں کی مخصوص اقسام کی تفصیلات ظاہر کیے بغیر بتایا کہ یہ معلومات سیٹلائٹ کے ذریعے براہِ راست بیرونِ ملک منتقل کی جا رہی ہیں۔

چینی وزارتِ سلامتی نے یہ انکشاف بھی کیا ہے کہ انہیں سمندر میں ایسے تیرتے ہوئے آلات  بھی ملے ہیں جنہیں ایک غیر ملکی بحری تحقیقی ادارے نے نصب کیا تھا۔ یہ آلات موسمیاتی سنسر پیکج سے لیس ہیں جو حقیقی وقت میں چینی آبدوزوں کی آوازوں کے سگنلز  کو ٹریک کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا نے چینی کمپنی پر ایران سے خفیہ تعاون کا الزام عائد کردیا

چین کی جانب سے قریبی سمندری حدود بشمول بحیرہ جنوبی چین، بحیرہ مشرقی چین اور آبنائے تائیوان میں جاسوسی کی کوششوں کے ایسے دعوے پہلے بھی سامنے آتے رہے ہیں۔

اس خفیہ مہم کا مقابلہ کرنے کے لیے چینی حکومت نے مقامی سطح پر بھی اقدامات سخت کردیے ہیں اور عوامی تعاون کو فروغ دیا جارہا ہے۔ مقامی رپورٹس کے مطابق حکومت نے اپنے ماہی گیروں کے لیے بھاری مالی انعامات کا اعلان کر رکھا ہے، جس کے تحت سمندری حدود میں جاسوس ڈیوائسز تلاش کرنے پر 50ہزار سے لے کر 5لاکھ یوآن تک کا انعام دیا جاتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp