ڈومیسٹک کرکٹ سینٹرل کنٹریکٹ کے لیے لازمی قرار، سلیکشن کے لیے نئی پالیسیاں، محسن نقوی کے اہم اعلانات

ہفتہ 13 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) محسن نقوی نے کہا ہے کہ پاکستان کرکٹ کے نظام میں جامع اصلاحات متعارف کرانے کے لیے نئی پالیسیوں پر کام مکمل کیا جا رہا ہے، جن کے تحت کھلاڑیوں کے انتخاب کے عمل کو زیادہ شفاف اور پیشہ ورانہ بنایا جائے گا۔

ایل سی سی اے گراؤنڈ میں جاری ریڈ بال کیمپ کے دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محسن نقوی نے بتایا کہ ٹی20، ون ڈے اور ٹیسٹ کرکٹ تینوں فارمیٹس کے لیے الگ الگ حکمت عملی تیار کی گئی ہے۔

ان کے مطابق سلیکشن کے نظام کو زیادہ سے زیادہ کمپیوٹرائزڈ بنایا جا رہا ہے تاکہ انسانی مداخلت کو کم کیا جا سکے، جبکہ قریباً 85 فیصد فیصلے ڈیٹا، فٹنس اور کھلاڑیوں کی کارکردگی کی بنیاد پر کیے جائیں گے۔

اس موقع پر ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس عاقب جاوید، سابق کپتان سرفراز احمد اور مصباح الحق، مائیک ہیسن سمیت دیگر کوچز بھی موجود تھے۔ محسن نقوی نے کھلاڑیوں اور کوچنگ اسٹاف سے ملاقات کی اور تربیتی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔

ڈومیسٹک کرکٹ کو مرکزی حیثیت

چیئرمین پی سی بی نے واضح کیاکہ سینٹرل کنٹریکٹ حاصل کرنے کے لیے ڈومیسٹک کرکٹ میں شرکت لازمی قرار دی جا رہی ہے۔ جو کھلاڑی مقررہ معیار پر پورا نہیں اترے گا، اسے سینٹرل کنٹریکٹ نہیں دیا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ سینٹرل کنٹریکٹ کے لیے 5 مختلف کیٹیگریز متعارف کرائی جا رہی ہیں، جبکہ ایمرجنگ پلیئرز کے لیے بھی ایک خصوصی کیٹیگری قائم کی جا رہی ہے، جس پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

میچ فیس اور معاوضوں میں اضافے کا اعلان

محسن نقوی نے کہاکہ ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی20 تینوں فارمیٹس میں میچ فیس میں اضافہ کیا جا رہا ہے، جبکہ ڈومیسٹک کرکٹرز کے معاوضوں میں اضافے کے حوالے سے بھی کام جاری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی کھلاڑی کو قومی سطح پر آگے بڑھنے کے لیے فٹنس، ڈومیسٹک کارکردگی اور مجموعی پرفارمنس کے تمام مراحل سے گزرنا ہوگا۔

کھلاڑیوں سے مشاورت کا فیصلہ

انہوں نے بتایا کہ پیر کے روز تمام کھلاڑیوں کو مشاورت کے لیے مدعو کیا گیا ہے کیونکہ وہ اس پورے عمل کے اہم اسٹیک ہولڈرز ہیں۔

ان کے مطابق موجودہ اصلاحات کے نتائج ایک سے 2 سال کے اندر سامنے آئیں گے اور یہ اقدامات پاکستان کرکٹ کو طویل المدتی بنیادوں پر مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔

کپتانی سے متعلق فیصلے سلیکشن حکام کریں گے

ٹیسٹ ٹیم کی کپتانی کے حوالے سے سوال کے جواب میں محسن نقوی نے کہاکہ یہ فیصلہ وہ خود نہیں کریں گے بلکہ متعلقہ ٹیم مینجمنٹ اور سلیکشن حکام اس بارے میں حتمی فیصلہ کریں گے۔

شاداب خان کی ممکنہ کپتانی کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کہاکہ اس حوالے سے ان کے علم میں کوئی حتمی بات نہیں ہے۔

سرفراز احمد اہم اثاثہ قرار

سابق کپتان سرفراز احمد سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی سی بی نے کہاکہ وہ پاکستان کرکٹ کا ایک اہم اثاثہ ہیں، تاہم ان کے مستقبل کے کردار کے حوالے سے ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنے کی ضرورت

محسن نقوی نے امید ظاہر کی کہ نئی پالیسیاں قومی ٹیم کی کارکردگی میں بہتری لانے میں مدد دیں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں بعض غلط پالیسیوں اور ذاتی مفادات نے پاکستان کرکٹ کو نقصان پہنچایا، لیکن اب ادارے کو پیشہ ورانہ بنیادوں پر چلایا جا رہا ہے تاکہ قومی ٹیم بہتر نتائج دے سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ خراب کارکردگی کی ایک بڑی وجہ سوچ میں خرابی تھی، کیونکہ لوگ ملک کے بجائے اپنے لیے کرکٹ کھیل رہے تھے، تاہم اب اس سوچ کو تبدیل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ قومی مفاد کو اولین ترجیح دی جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایران امریکا معاہدے کے باوجود عالمی معیشت کو چیلنجز درپیش، آئی ایم ایف کا انتباہ

غلافِ کعبہ تبدیل، نئے غلاف میں کیا خاص ہے؟

کیا ٹیلر سوئفٹ اور ٹریوس کیلسی کی شادی کی تاریخ طے ہو گئی؟ نیویارک میئر ظہران ممدانی کا بیان زیرِ بحث

فیفا ورلڈ کپ: یوراگوئے، ایران اور بیلجیئم کو افتتاحی میچوں میں ڈراز کا سامنا

افغانستان میں دہشتگرد تنظیموں کی موجودگی عالمی امن کے لیے خطرہ، یورپی یونین کی پاکستان کے حقِ دفاع کی حمایت

ویڈیو

امریکا اور ایران کے درمیان معاملات طے، بلوچستان کے کاروبار پر اس کے کیا اثرات ہوں گے؟

پی ٹی آئی کے اندرونی اختلافات، نقصان عوام کا کیسے؟

ایران امریکا فریم ورک معاہدہ کیا ہے اور آئندہ ہونے والے تکنیکی مذاکرات میں کیا طے ہو گا؟

کالم / تجزیہ

تاریخ کا رخ موڑنے والا ایک نیا اور سرخرو پاکستان

پنجاب کا حق، ایتھے رکھ

سرحدوں سے ماورا یاری: سید بابر علی اور ہرچرن سنگھ