سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کا اجلاس چیئرمین سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا، جس میں فنانس بل 27-2026 اور سالانہ بجٹ دستاویز پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اجلاس کے آغاز میں کسٹمز ایکٹ 1969 میں مجوزہ ترامیم کا شق وار جائزہ لیا گیا اور کمیٹی اراکین کی سفارشات و آرا طلب کی گئیں۔ کمیٹی نے دن بھر فنانس بل 27-2026 کی مختلف شقوں، خصوصاً کسٹمز اور سیلز ٹیکس سے متعلق اقدامات پر غور جاری رکھا۔
مزید پڑھیں: پائیدار ترقی کا سفر شروع، بجٹ میں غیر معمولی پیشرفت کی گئی ہے، وزیر خزانہ کی پوسٹ بجٹ پریس کانفرس
اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، سینیٹر شیری رحمان، سینیٹر عبدالقادر، سینیٹر سید فیصل علی سبزواری اور سینیٹر شاہزیب درانی نے شرکت کی، جبکہ سینیٹر انوشہ رحمٰن احمد خان نے ورچوئل شرکت کی۔
بجٹ تجاویز پر گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین کمیٹی سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہاکہ ہر سال وفاقی بجٹ کے ذریعے نئے تجربات کیے جاتے ہیں، حالانکہ گزشتہ 10 برسوں میں متعارف کرائی گئی کئی تبدیلیاں بعد ازاں واپس لینا پڑیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایسے اقدامات کیوں اختیار کیے جاتے ہیں جو مطلوبہ نتائج نہیں دیتے۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ وزیراعظم نے ٹیکس پالیسی کی تشکیل اور ٹیکس انتظامیہ کو الگ کرنے کے لیے ٹیکس پالیسی آفس قائم کیا ہے۔
سینیٹر عبدالقادر نے سپر ٹیکس کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے حوصلہ شکن قرار دیا، جبکہ سینیٹر شیری رحمان نے کہاکہ بعض شعبوں میں صوبائی ٹیکس وصولی کی کارکردگی ایف بی آر سے بہتر دکھائی دیتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایف بی آر کے سالانہ محصولات کے اہداف حاصل ہونے کے حوالے سے اب بھی غیر یقینی صورتحال موجود ہے۔
کمیٹی نے کسٹمز قوانین کی خلاف ورزی پر جرمانے عائد کرنے کے لیے ایف بی آر کو اختیارات دینے کی تجویز کا بھی جائزہ لیا۔
سینیٹر انوشہ رحمان نے اس تجویز کی مخالفت کرتے ہوئے کہاکہ یہ اختیار حکومت کے پاس ہونا چاہیے، نہ کہ ایف بی آر بورڈ کے پاس۔ انہوں نے بتایا کہ یہ اختیار وفاقی وزیر خزانہ کو دے دیا گیا ہے۔
اجلاس میں ضبط شدہ سامان کی نیلامی کا عمل نجی شعبے کے ذریعے کرانے کی ایف بی آر کی تجویز پر بھی غور کیا گیا۔
حکام نے مؤقف اختیار کیاکہ نیلامی کی سرگرمیاں کسٹمز افسران کے بجائے نجی شعبہ انجام دے۔ غور و خوض کے بعد کمیٹی نے اس تجویز کی منظوری دے دی۔
کسٹمز کلیئرنس کے طریقہ کار پر بھی اہم بحث ہوئی۔ کمیٹی اراکین نے درآمدی اشیا کی کسٹمز کلیئرنس کے لیے ایک مقررہ مدت طے کرنے کی تجویز دی جس کی چیئرمین سلیم مانڈوی والا اور دیگر اراکین نے حمایت کی۔
سلیم مانڈوی والا نے کہاکہ درآمدی کنسائنمنٹس کی کلیئرنس اور فیصلوں کے لیے واضح ٹائم لائن مقرر کی جانی چاہیے کیونکہ تاخیر کے باعث درآمد کنندگان کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔
انہوں نے غیر ضروری تاخیر کے ذمہ دار افسران کے احتساب پر بھی زور دیا اور وزارت قانون و انصاف کو متعلقہ قوانین میں مناسب مدت شامل کرنے کی ہدایت دی۔
بعد ازاں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اجلاس میں شریک ہوئے اور مالیاتی اصلاحات و معاشی پالیسی پر تبادلہ خیال کیا۔
انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاروں کو حکومتی پالیسیوں میں تسلسل اور پیش گوئی کی صلاحیت درکار ہوتی ہے، جبکہ معاشی ترقی کے لیے تمام فریقین کو مل کر کام کرنا ہوگا۔
انہوں نے اعلان کیا کہ اقتصادی مشاورت کا عمل صرف 30 جون تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پورا سال جاری رکھا جائے گا۔
کمیٹی نے بعد ازاں سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 میں مجوزہ ترامیم اور نئے ٹیکس اقدامات کا بھی جائزہ لیا۔
ایف بی آر حکام نے کمیٹی کو ایڈوانس رسید انوائس سسٹم متعارف کرانے کی تجویز پر بریفنگ دی۔
چیئرمین کمیٹی نے سوال اٹھایا کہ موجودہ نظام کے تحت ٹیکس کٹوتی کے باوجود نئی رسید کی ضرورت کیوں پیش آرہی ہے۔
حکام نے بتایا کہ سیلز ٹیکس انوائسز کے اجرا اور ریکارڈنگ کا نیا طریقہ کار متعارف کرایا جا رہا ہے۔ مزید برآں، نیشنل فیس لیس سینٹر کی قانونی تعریف سیلز ٹیکس ایکٹ میں شامل کی جا رہی ہے اور پیداوار و فروخت کی مؤثر نگرانی کے لیے پروڈکشن مانیٹرنگ سسٹم بھی متعارف کرایا جا رہا ہے۔
وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے کہاکہ الیکٹرانک انوائسنگ کے نفاذ سے کاروباری لین دین کی نگرانی مزید مؤثر ہوگی۔
ان کے مطابق کاروباری برادری نے اس اقدام کا خیرمقدم کیا ہے اور اسے مراعات پر مبنی اسکیم قرار دیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اسکیم میں شامل نہ ہونے والے کاروبار معمول کے ٹیکس نظام کے تحت رہیں گے، جبکہ دونوں نظاموں سے باہر رہنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے واضح کیاکہ نئے نظام میں بڑے اور چھوٹے ریٹیلرز کے درمیان فرق رکھا گیا ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کمیٹی کو بتایا کہ حکومت معیشت کو استحکام سے پائیدار ترقی کی جانب منتقل کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔
انہوں نے کہاکہ پارلیمنٹ ٹیکس پالیسی اور ٹیکس وصولی کے امور کو الگ کرنے کی منظوری دے چکی ہے اور ٹیکس پالیسی آفس کا قیام ایک بڑی ساختی اصلاح ہے۔
مزید پڑھیں: کسانوں نے بجٹ 27-2026 مسترد کردیا، حکومت سے کھاد اور ادویات پر فوری سبسڈی کا مطالبہ
انہوں نے مزید کہاکہ ٹیکس پالیسی آفس سال بھر تاجروں اور کاروباری نمائندوں سے مسلسل رابطے اور مشاورت کا عمل جاری رکھے گا تاکہ پالیسیوں میں تسلسل، شراکت داروں کی شمولیت اور معاشی اعتماد کو فروغ دیا جا سکے۔
قائمہ کمیٹی برائے خزانہ فنانس بل 27-2026 کی شق وار جانچ کا عمل کل دوپہر 2 بجے دوبارہ شروع کرے گی اور اپنی سفارشات سینیٹ میں پیش کرے گی۔














