پائیدار ترقی کا سفر شروع، بجٹ میں غیر معمولی پیشرفت کی گئی ہے، وزیر خزانہ کی پوسٹ بجٹ پریس کانفرس

ہفتہ 13 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب نے مالی سال 27-2026 کے وفاقی بجٹ کی منظوری کے بعد وفاقی وزرا کے ہمراہ اہم ترین پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ پاکستان کامیابی کے ساتھ معاشی استحکام کا مرحلہ طے کر کے اب پائیدار معاشی ترقی کی جانب گامزن ہو چکا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ بجٹ روایتی اعدادوشمار کا گورکھ دھندا نہیں بلکہ ملکی معیشت کی سمت درست کرنے کے لیے ایک غیر معمولی اور انقلابی پیش رفت کا حامل ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بجٹ 27-2026: ای سگریٹ اور ویپ مصنوعات پر ٹیکس میں بڑا اضافہ، قیمتیں بڑھنے کا امکان

پریس کانفرنس کے دوران وزیر خزانہ نے کارپوریٹ سیکٹر اور بڑے کاروباری اداروں کے لیے ایک تاریخی ساختی ریلیف کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ ملک کے بڑے مینوفیکچررز اور کمپنیوں کو سرمایہ کاری کی طرف راغب کرنے کے لیے 50 کروڑ روپے سے زیادہ کی سالانہ آمدن پر عائد سپیشل ’سپر ٹیکس‘ کو موجودہ شرح سے نمایاں طور پر کم کر کے 8 فیصد تک لایا گیا ہے۔

محمد اورنگزیب نے انکشاف کیا کہ وزیراعظم شہباز شریف سمیت ریاست کے تمام متعلقہ مقتدر حلقوں اور اسٹیک ہولڈرز نے اس بات پر اصولی اتفاق کر لیا ہے کہ صنعتوں پر عائد اس اضافی سپر ٹیکس کو آنے والے سالوں میں مرحلہ وار مکمل طور پر ختم کر دیا جائے گا تاکہ کاروباری اعتماد بحال ہو۔

عوامی ریلیف اور سبسڈی؛ آئی ٹی اور زرعی شعبے کے لیے نئے سنگِ میل

وزیر خزانہ نے بتایا کہ سخت معاشی حالات کے باوجود عام عوام، تنخواہ دار طبقے اور کمزور معاشی شعبوں کو براہِ راست ریلیف فراہم کرنے کے لیے وفاقی بجٹ میں 70 ارب روپے کی اضافی سبسڈی مختص کی گئی ہے۔

مزید پڑھیں:بجٹ 27-2026: اعلیٰ تعلیم کے لیے 46 ارب اور سائنس و ٹیکنالوجی کے لیے 3.6 ارب روپے مختص

انہوں نے برآمدی شعبے کی حوصلہ افزائی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ رواں مالی سال معاشی لحاظ سے انتہائی سازگار رہا ہے، جس کے نتیجے میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ملکی برآمدات میں ریکارڈ اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور آئی ٹی ایکسپورٹس کا حجم بڑھ کر ساڑھے 4 کروڑ ڈالر تک پہنچنے کی قوی توقع ہے۔

زرعی معیشت کے حوالے سے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ایک اور بڑی کامیابی کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار زرعی شعبے کے لیے بینکنگ گراس قرضوں کی فراہمی کا کل حجم 20 ارب روپے کی ریکارڈ حد سے تجاوز کر گیا ہے، جو دیہی معیشت کو سنبھالا دینے اور ملک کو غذائی تحفظ فراہم کرنے میں سنگِ میل ثابت ہوگا۔

انہوں نے اعادہ کیا کہ حکومت کی پوری توجہ اب دستاویزی معیشت، ٹیکس چوری کے خاتمے اور مینوفیکچرنگ سیکٹر کو مراعات دینے پر مرکوز ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کسی کو مسلح جتھوں کے ذریعے مظفرآباد پر قبضہ کرنے کی اجازت نہیں دی جائےگی، رانا ثنااللہ

ایران کے ساتھ معاہدے پر دستخط کل ہوں گے جس کے ساتھ ہی آبنائے ہرمز کھل جائےگی، ڈونلڈ ٹرمپ

ٹرمپ کی سرکاری مقامات پر شناخت نمایاں کرنے کی کوشش کو جھٹکا، کینیڈی سینٹر سے نام ہٹا دیا گیا

مشرق وسطیٰ میں امن کی جانب اہم پیشرفت، امریکا اور ایران کے درمیان الیکٹرانک دستخطی تقریب کل طے

ایکشن کمیٹی کا عمل غداری کے مترادف ہے، سپریم بار ایسوسی ایشن آزاد کشمیر کا احتجاج ختم کرنے کا مطالبہ

ویڈیو

امریکا ایران ڈیل فائنل، پاکستان کو اس سے کیا فائدہ ہوگا؟

وزیراعظم شہباز شریف کی چارٹر آف اکانومی اور چارٹر آف ڈیموکریسی کے لیے اپوزیشن کو دوبارہ مذاکرات کی دعوت

بھارت کی جانب سے آبی جارحیت ہوئی تو پاکستان بھرپور جواب دے گا، اسلام آباد کے شہریوں کی رائے

کالم / تجزیہ

سعودی عرب اور پاکستان ایک دوسرے کے لیے کیوں اہم ہیں؟

ہارڈ اسٹیٹ: گزارا کرنا سیکھیں

 فیفا ورلڈ کپ، 48 ٹیمیں ایک خواب