پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں چینی اسٹریٹجک شیئر ہولڈرز نے پاکستان کی کیپٹل مارکیٹس میں اپنی طویل المدتی سرمایہ کاری کو مزید وسعت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس پیش رفت کے تحت چینی کنسورشیم مرکزی ڈیپازٹری کمپنی اور نیشنل کلیئرنگ کمپنی آف پاکستان لمیٹڈ میں اپنی شیئر ہولڈنگ بڑھانے کے لیے اضافی سرمایہ کاری کرے گا۔
یہ بات ایک اعلیٰ سطحی چینی وفد نے سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے چیئرمین ڈاکٹر کبیر احمد سدھو سے ملاقات کے دوران کہی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی تاریخ ساز کامیابی: چین میں پہلی بار ‘پانڈا بانڈ’ جاری، عالمی سرمایہ کاری میں اعتماد میں اضافہ
اعلامیے کے مطابق ایکسچینج کمیشن نے اس حوالے سے ضروری ریگولیٹری منظوریوں کا اجرا کر دیا ہے، جس کے بعد پاکستان اور چین کے درمیان مالی تعاون کے ایک نئے دور کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
ملاقات میں پاکستان کی کیپٹل مارکیٹس کی ترقی، سرمایہ کاری کے فروغ اور اسٹاک ایکسچینج میں نئے مالیاتی آلات کے اجرا کے امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
چینی وفد نے طویل عرصے سے زیر التوا ریگولیٹری معاملات کے حل اور مطلوبہ منظوریوں کے اجرا پر ایکسچینج کمیشن کا شکریہ ادا کیا۔
مزید پڑھیں: چینی سرمایہ کاروں کا پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں سمیت مختلف شعبوں میں دلچسپی کا اظہار
سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کی منظوریوں کے بعد چینی کنسورشیم کو سی ڈی سی اور نیشنل کلیئرنگ کمپنی میں اپنی شیئر ہولڈنگ بڑھانے کی اجازت حاصل ہو گئی ہے۔
وفد نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی پراپرٹی مینجمنٹ کے کام کو ایک علیحدہ کمپنی کے سپرد کرنے کی منظوری کا بھی خیر مقدم کیا۔
یہ نئی کمپنی ریئل اسٹیٹ انویسٹمنٹ ٹرسٹ ماڈل کے تحت کام کرے گی، جس سے اسٹاک ایکسچینج اپنے بنیادی کاروبار، مارکیٹ ڈیویلپمنٹ، نئے مالیاتی آلات کے اجرا اور اسٹریٹجک ترقی پر زیادہ توجہ دے سکے گی۔
مزید پڑھیں: پاکستان چین سرمایہ کاری کانفرنس، اربوں ڈالرز کے کون سے 21 معاہدے ہوئے؟
چینی وفد کی قیادت چائنا فنانشل فیوچرز ایکسچینج کے چیف ریپریزنٹیٹو یو ہونگ نے کی۔ وفد میں سینئر نائب صدر لو فینگسن اور ڈائریکٹر ژانگ شیاوفینگ بھی شامل تھے۔
یو ہونگ نے پاکستان کی معاشی ترقی اور کیپٹل مارکیٹس کے روشن مستقبل پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ چینی کنسورشیم پاکستان کی مارکیٹ کی ترقی میں مزید فعال کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔
ملاقات میں دونوں ممالک کی ایکسچینجز کے درمیان کراس بارڈر ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈز کے جلد اجرا پر بھی بات چیت ہوئی، اس مقصد کے لیے ایک مشترکہ ٹاسک فورس پہلے ہی قائم کی جا چکی ہے۔














