کویت نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے اور ملک کو خطے میں سرمایہ کاری کے ایک اہم مرکز کے طور پر متعارف کرانے کے لیے طویل مدتی رہائشی اجازت ناموں کی نئی اسکیم کا اعلان کر دیا ہے، جس کے تحت اہل غیر ملکی سرمایہ کاروں اور ان کے اہل خانہ کو 15 سال تک کے رہائشی پرمٹ جاری کیے جائیں گے۔
پیر 15 جون کو کیے گئے اس اعلان کے مطابق نئی ویزا پالیسی کے تحت اہل غیر ملکی سرمایہ کاروں، ان کے قریبی خاندان کے افراد، تسلیم شدہ سینیئر ایگزیکٹوز اور کویت میں کام کرنے والے سرمایہ کاری اداروں سے وابستہ منظور شدہ شراکت داروں کو 15 سال تک کی مدت کے لیے رہائش کی اجازت دی جا سکے گی۔
غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کی حکمت عملی
کویتی حکام کے مطابق نئی ویزا اسکیم کا مقصد ملک کو غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے خطے کی ایک نمایاں منزل بنانا اور عالمی سرمایہ کاروں کو طویل المدتی بنیادوں پر کویت میں کاروبار کے مواقع فراہم کرنا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام سرمایہ کاروں کو زیادہ اعتماد اور استحکام فراہم کرے گا، جس کے ذریعے وہ کویت میں اپنے کاروبار کا آغاز کرنے یا اسے مزید وسعت دینے کے قابل ہوں گے، اس کے ساتھ ساتھ یہ پالیسی معیشت کو متنوع بنانے اور اعلیٰ معیار کی سرمایہ کاری کو ملک کی جانب راغب کرنے میں بھی معاون ثابت ہوگی۔
کن سرمایہ کاروں کو 15 سالہ رہائش ملے گی؟
نئی پالیسی کے تحت طویل مدتی رہائش کے خواہشمند سرمایہ کاروں کو متعدد شرائط پوری کرنا ہوں گی۔
اہل سرمایہ کاروں کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ ایسے سرمایہ کاری اداروں کے مالک ہوں جو کویت ڈائریکٹ انویسٹمنٹ پروموشن اتھارٹی سے باقاعدہ لائسنس یافتہ ہوں۔
اس کے علاوہ سرمایہ کاروں کو کویت کے اندر حقیقی کاروباری سرگرمیاں جاری رکھنا ہوں گی، کویتی شہریوں کو ملازمت دینے سے متعلق مقررہ تقاضے پورے کرنا ہوں گے اور اتھارٹی کی جانب سے منظور شدہ شعبوں میں کم از کم 10 لاکھ کویتی دینار کی سرمایہ کاری کرنا ہوگی۔
5 ملین کویتی دینار کی سرمایہ کاری برقرار رکھنا لازمی
اعلان کے مطابق اتھارٹی سے لائسنس یافتہ اداروں کے لیے یہ بھی ضروری ہوگا کہ وہ کم از کم 50 لاکھ کویتی دینار کی سرمایہ کاری کی مالیت برقرار رکھیں۔
حکام کے مطابق ان شرائط کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ملک میں آنے والی سرمایہ کاری حقیقی کاروباری سرگرمیوں اور معاشی ترقی کا باعث بنے۔
معیشت کو تبدیل کرنے کا حکومتی وژن
کویت کی وزارت داخلہ کے مطابق نئی رہائشی پالیسی دراصل ملکی قیادت کے اس وژن کا حصہ ہے جس کے تحت کویت کو سرمایہ کاری کے لیے ایک پرکشش مالیاتی اور تجارتی مرکز میں تبدیل کرنا اور خطے میں اس کی مسابقتی صلاحیت کو مزید مضبوط بنانا مقصود ہے۔
یہ اعلان کویتی کابینہ کی قرارداد نمبر 651 برائے 2026 کی منظوری کے بعد سامنے آیا ہے۔
اس نئے ریگولیٹری فریم ورک کی تیاری وزارت داخلہ کے جنرل ڈیپارٹمنٹ آف ریزیڈنسی افیئرز اور کویت ڈائریکٹ انویسٹمنٹ پروموشن اتھارٹی کے باہمی تعاون سے کی گئی۔
غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے قانونی ماحول کی بہتری
حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام 2013 کے قانون نمبر 116 کے مقاصد کو آگے بڑھانے کا تسلسل ہے، جس کا مقصد کویت میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینا تھا۔
ان کے مطابق یہ پالیسی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ حکومت غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے قانونی اور ضابطہ جاتی ماحول کو مزید بہتر بنانے کے لیے مسلسل اقدامات کررہی ہے۔
خلیجی ممالک میں طویل مدتی رہائش کی دوڑ
نئی ویزا اصلاحات کے بعد کویت بھی ان خلیجی ممالک کی صف میں شامل ہوگیا ہے جو عالمی صلاحیتوں، سرمایہ اور طویل المدتی کاروباری وابستگیوں کو اپنی جانب متوجہ کرنے کے لیے طویل مدتی رہائش کے مواقع فراہم کررہے ہیں۔
متحدہ عرب امارات کا گولڈن ویزا ماڈل
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات کا گولڈن ویزا پروگرام، جو 2019 میں متعارف کرایا گیا تھا، خطے میں طویل مدتی رہائشی منصوبوں کا ایک نمایاں نمونہ بن چکا ہے۔
اس پروگرام کے تحت اہل تارکین وطن، غیر ملکی سرمایہ کاروں، کاروباری شخصیات، ہنر مند افراد، سائنس دانوں، نمایاں طلبہ، تخلیقی صلاحیتوں کے حامل افراد اور انسانی خدمت کے شعبے سے وابستہ شخصیات کو 10 سال تک کی رہائش فراہم کی جاتی ہے۔
یو اے ای کے گولڈن ویزا ہولڈرز کو کسی مقامی کفیل کے بغیر امارات میں رہنے، ملازمت کرنے اور تعلیم حاصل کرنے کی اجازت ہے، جبکہ وہ اپنے قریبی اہل خانہ کی کفالت بھی کر سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس طویل مدتی ویزا پروگرام نے عالمی سرمایہ کاروں اور باصلاحیت افراد کو متحدہ عرب امارات کی جانب راغب کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے، جس کے نتیجے میں یو اے ای خطے میں کاروبار، جدت اور مستقل رہائش کے لیے سب سے مسابقتی مقامات میں شمار ہونے لگا ہے۔














