برطانوی ٹرِپ ہاپ بینڈ میسیو اٹیک نے سنگاپور میں اپنے حالیہ کنسرٹ کے بعد پیش آنے والے واقعے کی تفصیلات سامنے لاتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطینی پرچم لہرانے پر بینڈ کے ارکان کو پولیس نے حراست میں لے کر الگ الگ پوچھ گچھ کی۔
بعض ارکان کے ہوٹل کے کمروں کی تلاشی لی گئی، عارضی طور پر ان کے پاسپورٹ ضبط کیے گئے، جبکہ 2 ارکان کو آئندہ سنگاپور میں داخلے سے بھی روک دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سنگاپور میں فرانسیسی طالبعلم پر وینڈنگ مشین سے اسٹرا چاٹ کر دوبارہ رکھنے کا الزام، مقدمہ درج
بینڈ نے اتوار کے روز انسٹاگرام پر جاری اپنے تفصیلی بیان میں کہا کہ کنسرٹ شروع ہونے سے پہلے ہی ہزاروں شائقین ’فری فلسطین‘ کے نعرے لگا رہے تھے اور یہ نعرے پروگرام کے اختتام تک مسلسل سنائی دیتے رہے۔
بینڈ کے مطابق حاضرین کو سنگاپور کے سخت قوانین اور سنسرشپ پالیسیوں کا علم تھا، لیکن اس کے باوجود انہوں نے فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کے اظہار سے گریز نہیں کیا۔
🇵🇸 🇸🇬 Singapore barred two members of British band Massive Attack from re-entering the country after they unfurled a Palestinian flag on stage.
Authorities said they were investigated over support for a political cause and displaying a foreign flag without permission. pic.twitter.com/qBWtdM1wA1
— Muslim (@Muslim) August 2, 2026
میسیو اٹیک نے اپنے بیان میں کہا کہ انہیں ہرگز یہ توقع نہیں تھی کہ دنیا کے 157 ممالک کی جانب سے تسلیم شدہ ریاست فلسطین کا پرچم اسٹیج پر بلند کرنا کسی قانون کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔
بینڈ نے کہا کہ وہ اپنے سنگاپوری مداحوں کے ساتھ فلسطین کے حق میں آواز بلند کرنے پر فخر محسوس کرتے ہیں، کیونکہ ان کے بقول فلسطینی عوام ایک طویل عرصے سے ’غیر قانونی قبضے، نسلی امتیاز اور نسل کشی‘ جیسے حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: سنگاپور: عمر رسیدہ خاتون کو جنگلی پرندوں سے ہمدردی مہنگی پڑگئی، بھاری جرمانہ عائد
بینڈ نے اس پورے واقعے کو ’حیران کن اور ناقابل یقین‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے واضح ہوتا ہے کہ جہاں بھی آزادی اظہار اور بنیادی انسانی حقوق کو خطرات لاحق ہوں، وہاں ان کے تحفظ کے لیے آواز اٹھانا ضروری ہے۔
انہوں نے برطانیہ کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وہاں بھی فلسطین کے حق میں احتجاج کرنے والے بعض افراد کو دہشتگردی سے متعلق قوانین کے تحت گرفتار کیا جا چکا ہے، جو آزادی اظہار کے حوالے سے تشویش کا باعث ہے۔

بیان کے اختتام پر بینڈ نے سنگاپور کے عوام کی مہمان نوازی کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ مستقبل میں وہاں کے شہریوں کو ضمیر کی آواز کے مطابق اظہارِ خیال کرنے کی آزادی حاصل ہوگی۔ بینڈ نے اپنا پیغام ’فری فلسطین‘ کے الفاظ پر ختم کیا۔
دوسری جانب سنگاپور کی پولیس اور میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی نے مشترکہ بیان میں کہا کہ ملک کے قوانین کے تحت بغیر اجازت کسی غیر ملکی ریاست کا پرچم یا سیاسی علامت عوامی طور پر آویزاں کرنا ممنوع ہے۔
مزید پڑھیں: سنگاپور: چرچ میں جعلی بم رکھنے کے الزام میں بھارتی نژاد شہری گرفتار
حکام کے مطابق بینڈ کے خلاف ’سیاسی مقصد کی حمایت اور غیر ملکی پرچم لہرانے‘ کے معاملے پر تحقیقات کی گئیں، جبکہ مستقبل میں انہیں سنگاپور میں پرفارم کرنے کی اجازت بھی نہیں دی جائے گی۔
سنگاپور کے حکام کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات ملک کی نسلی اور مذہبی ہم آہنگی اور سماجی استحکام کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے مقامی اور غیر ملکی افراد کو ملک کے اندر بیرونی سیاسی تنازعات لانے سے اجتناب کرنا چاہیے۔ دوسری جانب میسیو اٹیک کا مؤقف ہے کہ وہ ماضی کی طرح آئندہ بھی غزہ، یوکرین، سوڈان اور دیگر عالمی انسانی حقوق کے مسائل پر اپنی آواز بلند کرتا رہے گا۔














