یو اے ای بی ایل اے کو سپورٹ نہیں کررہا، ہمارا برادر اسلامی ملک ہے، پاکستانی حکام

منگل 16 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان کے سینیئر سیکیورٹی حکام نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے بارے میں یہ پروپیگنڈہ غلط ہے کہ وہ بلوچستان میں دہشتگردی کو ہوا دینے کے لیے بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کو سپورٹ کررہا ہے۔

انہوں نے کہاکہ سوشل میڈیا پر منفی پروپیگنڈے کے باوجود پاکستان اور یو اے ای آج بھی دو برادر مسلم ممالک ہیں جو عقیدے کے بندھن کے ساتھ بندھے ہوئے ہیں۔

مزید پڑھیں: پاکستان یو اے ای سفارتی تعلقات میں پیشرفت، سفارتی و سرکاری پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سہولت فعال

ایک سوال کے جواب میں سینیئر سکیورٹی آفیشل کا کہنا تھا کہ بی ایل اے کو انڈیا اور کچھ دیگر ایجینسیز مدد فراہم کررہی ہیں لیکن یو اے ای ان میں شامل نہیں ہے۔

سیکیورٹی حکام نے کہاکہ بلوچستان اور پاکستان کے دشمنوں اور کچھ مقامی سرداروں کا ایجنڈا ہے کہ بلوچستان میں ترقی نہ ہونے دی جائے کیونکہ اگر بلوچستان میں ترقی ہوگئی تو اس سے نہ صرف یہ کہ یہ خطہ دنیا کا امیر ترین خطہ بن جائے گا اور پاکستان بھی اوپر چلا جائے گا بلکہ یہاں کا سراداری نظام بھی ختم ہو جائے گا، اس لیے وہ بلوچستان کے قدرتی وسائل، اس کی جغرافیائی حیثیت اور بلیو اکانومی (سمندری معیشت) کو پروان نہیں چڑھنے دینا چاہتے۔

انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں جرائم پیشہ افراد اور دہشتگردوں کے اتحاد کے باوجود حکومت پاکستان کی اپنائی گئی ترقیاتی منصوبہ بندی کے بہتر نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ دہشتگرد کسی دور دراز علاقے میں ایک ٹرک یا جگہ کو نشانہ بنا کر پروپیگنڈہ کرتے ہیں کہ پورے صوبے میں بد امنی ہے تاکہ سرمایہ کار اس خطے میں سرمایہ کاری نہ کریں اور یہاں ترقی نہ ہو۔ پھر اس پروپیگنڈے کو ان کے بین الااقوامی مددگار سوشل میڈیا پر بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں سیکیورٹی حکام کا کہنا تھا کہ مقامی افراد اور قبائیل کو بلوچستان دشمنوں کے خلاف صف آرا ہونا چاہیے۔

پاکستان میں اٖفغانستان کا نام دہشتگردی سے منسلک ہے

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ پاکستان نے گزشتہ کئی سالوں تک افغان طالبان سے مذاکرات کا راستہ اپنائے رکھا لیکن اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا اور پھر پاکستان نے دہشتگردی کے خاتمے کے لیے افغانستان کے اندر فوجی حملوں کا فیصلہ کیا جس کی وجہ سے پاکستان میں دہشتگردی میں کمی واقع ہوئی۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں جب بھی افغانستان کا نام آتا ہے تو بدقسمتی سے یہ دہشتگردی سے ہی منسلک ہوتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ رواں سال پاکستان دہشتگردی کے خلاف خفیہ معلومات پر مبنی 32 ہزار سے زیادپ آپریشن کر چکا ہے جن میں ایک ہزار 861 دہشتگرد مارے گئے جن میں سے 862 دہشتگرد افغانستان کے اندر کارروائیوں میں ہلاک ہوئے۔

مزید پڑھیں: سید عاصم منیر نے بغیر لڑے جنگ جیتی، پاکستان امریکا اور ایران کا معاہدہ نہ کرواتا تو مسلم امہ کے اندر لڑائی ہوتی، سیکیورٹی ذرائع

انہوں نے کہاکہ اس دوران پاکستان میں 2 ہزار 170 دہشتگرد حملے ہوئے جن میں 640 افراد جاں بحق ہوئے اور ان میں 259 سویلینز تھے۔

فوجی بجٹ ضروریات کے مقابلے میں کم ہے

ایک اور سوال کے جواب میں سیکیورٹی حکام کا کہنا تھا کہ پاکستان مستقبل کی ٹیکنالوجی پر بھاری انحصار کرنے والی جنگ کے لیے تیاری کررہا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اس کو دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے بڑی افرادی قوت کی بھی ضرورت ہے اس لیے اس کا فوجی بجٹ ابھی بھی کم ہے۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان کا 85 فیصد فوجی بجٹ واپس قومی معاشی نظام میں چلا جاتا ہے کیونکہ یہ 7 لاکھ کے قریب فوجیوں کی تنخواہوں کے لیے استعمال ہوتا ہے اور اس سے وہ اپنے تمام اخراجات پورے کرتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

دہری شہریت کے حامل مسافروں کے لیے پی آئی اے کی اہم ایڈوائزری جاری

امریکا نے طلبا اور غیر ملکی صحافیوں کے لیے ویزا قوانین سخت کردیے

مذہبی ہم آہنگی اور اتحادِ امت کی شاندار مثال، تمام مکاتب فکر کی ایک امام کے پیچھے نماز کی ادائیگی

کیا ٹرمپ کا نیا سکہ واقعی سونے کا بنا ہے؟

طالبان رجیم کس طرح بھارت سے پیسے لے کر دہشتگرد گروہوں سے پاکستان میں حملے کرواتی ہے؟ سابق افغان جنرل نے بتادیا

ویڈیو

کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے فیلڈ مارشل سے متعلق پروپیگنڈا، کشمیر پیپلز پارٹی کا، کیا ایسا ممکن ہوگا؟ پی ٹی آئی کا ایک اور یوٹرن

ماضی میں عدالتی احکامات پر مسمار ہونے والی عمارتوں سے متعلق سپریم کورٹ کے نئے فیصلے سے متاثرین کو کیا ریلیف ملے گا؟

نوکری اور پیسے تو سب لیتے ہیں، لیکن جہاں موت کا خطرہ ہو وہاں ہر کوئی نہیں جاتا، عامر نواز وڑائچ

کالم / تجزیہ

ہمارا جھوٹ اور ان کا جھوٹ

دھڑکتے دل کا فون

کپتانی کا خبط: سیاست سے کھیل تک