وفاقی آئینی عدالت میں رائل پام کلب لاہور کیس کی سماعت کے دوران نجی کمپنی کے وکیل سینیٹر علی ظفر اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان کے درمیان تلخ کلامی ہوئی، تاہم چیف جسٹس امین الدین خان کی مداخلت سے صورتحال کنٹرول میں آگئی۔
وفاقی آئینی عدالت میں رائل پام کلب لاہور کیس کی سماعت کے دوران اُس وقت کشیدگی پیدا ہوگئی جب نجی کمپنی کے وکیل بیرسٹر علی ظفر اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان کے درمیان دورانِ دلائل ایک دوسرے کی بات کاٹنے پر تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔
سماعت کے دوران دونوں وکلا کے درمیان بحث اس وقت شدت اختیار کر گئی جب رائل پام کلب کی لیز، آڈٹ اور بولی کے عمل سے متعلق نکات پر اختلاف سامنے آیا۔
یہ بھی پڑھیں:سرکاری ملازمین کی سینیارٹی سے متعلق وفاقی آئینی عدالت نے بڑا فیصلہ سنا دیا
نجی کمپنی کے وکیل سینیٹر علی ظفر نے مؤقف اختیار کیا کہ آج سے آٹھ سال قبل رائل پام کلب ان سے واپس لیا گیا تھا اور سپریم کورٹ نے 90 دن کے اندر ازسرنو لیز دینے کا حکم دیا تھا، تاہم یہ عمل آج تک مکمل نہیں ہو سکا۔
انہوں نے کہا کہ آٹھ سال گزرنے کے باوجود 90 دن کی عدالتی ہدایت پر عمل نہیں ہوا، جبکہ ریلوے حکام اس ادارے کو خسارے میں چلا رہے ہیں۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے مؤقف اپنایا کہ نجی کمپنی نے آڈٹ اور دیگر مالی معاملات میں تعاون نہیں کیا، جبکہ بولی کے عمل میں بھی باقاعدہ حصہ نہیں لیا جاتا۔
انہوں نے کہا کہ بعض کمپنیاں صرف درخواستیں دے کر بعد میں عمل سے پیچھے ہٹ جاتی ہیں، تاہم اگر ایسا ہے تو درخواستیں خارج بھی کی جا سکتی ہیں۔
اس پر بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ اگر ایسا سمجھا جا رہا ہے تو ان کی درخواست خارج کر دی جائے، جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت ایسا کر سکتی ہے۔
دورانِ سماعت دونوں وکلا کے درمیان آوازیں بلند ہونے پر چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت امین الدین خان نے مداخلت کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ کیس اچھے ماحول میں چلایا جائے اور سینئر وکلا تحمل کا مظاہرہ کریں۔
یہ بھی پڑھیں:سرکاری ملازمین کی سینیارٹی سے متعلق وفاقی آئینی عدالت نے بڑا فیصلہ سنا دیا
چیف جسٹس کی مداخلت کے بعد ماحول معمول پر آ گیا، اور بعد ازاں سماعت کے اختتام پر دونوں وکلا علی ظفر اور عامر رحمان نے ایک دوسرے سے مصافحہ بھی کیا۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ سپریم کورٹ کے منظور کردہ بزنس پلان کے مطابق لیز 25 سال کے لیے ہونی ہے، جبکہ دوسری جانب کمپنی کا مؤقف 35 سالہ لیز کا ہے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ بولی کے عمل کو آگے بڑھنے دیا جائے اور آئندہ سماعت پر مناسب حل نکال لیا جائے گا۔
عدالت نے کیس کی مزید سماعت گرمیوں کی عدالتی چھٹیوں کے بعد تک ملتوی کر دی۔














