شام کی عبوری حکومت نے بشار الاسد کے دور حکومت سے تعلق رکھنے والے 10 سابق سیکیورٹی اہلکاروں کو ملک بھر میں کارروائیوں کے دوران گرفتار کر لیا ہے۔ یہ کارروائیاں سابق حکومت کے مبینہ جرائم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق جاری کریک ڈاؤن کا حصہ ہیں۔
شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی (سنا) کے مطابق وزارت داخلہ نے بتایا کہ گزشتہ 2 دنوں کے دوران درعا، حلب اور ادلب میں سیکیورٹی آپریشنز کیے گئے جن کے نتیجے میں متعدد مطلوب افراد کو حراست میں لیا گیا۔
#Syria’s Interior Ministry says security forces arrested 10 remnants of the former #Assad regime in operations across Daraa, Aleppo and Idlib, the latest in a widening campaign to pursue former officials accused of abuses. https://t.co/NoU5dgZHoM pic.twitter.com/TcnbXPjifQ
— Arab News (@arabnews) June 18, 2026
رپورٹ کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں جنوبی شام میں پہلی کور کے سابق کمانڈر، سیکیورٹی اور ملٹری کمیٹی کے سابق سربراہ، بدنام زمانہ صیدنایا جیل کے ایک سابق محافظ اور ریپبلکن گارڈ کے ایک سابق افسر شامل ہیں۔ ان افراد پر حراست میں موجود قیدیوں پر تشدد اور دیگر سنگین خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
اس سے قبل منگل کے روز لاتاکیہ میں ایک اہم گرفتاری بھی عمل میں لائی گئی تھی، جہاں ایک سابق نان کمیشنڈ افسر اسامہ محمود حمودہ کو گرفتار کیا گیا۔ حکام کے مطابق وہ شہریوں کے خلاف مبینہ زیادتیوں، غیر قانونی حراست اور مالی بلیک میلنگ میں ملوث تھا اور ملک سے فرار ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:عراق میں ملیشیا تنظیموں کو غیر مسلح کرنے کی کوششیں تیز، متعدد ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل
لاتاکیہ میں داخلی سیکیورٹی کے سربراہ بریگیڈیئر جنرل عبدالعزیز ہلال الاحمد نے بتایا کہ ملزم کو طویل نگرانی کے بعد گرفتار کیا گیا اور اس کے مجرمانہ نیٹ ورکس سے روابط بھی سامنے آئے ہیں۔
ادھر شام کے اٹارنی جنرل حسن الترُبا نے کہا ہے کہ سابق دور کے سنگین جرائم میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی عبوری انصاف کے عمل کا اہم حصہ ہے۔ ان کے مطابق حکومت وزارت داخلہ اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر ذمہ دار افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے کام کر رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ملزمان کے فرار کو روکنے کے لیے انٹرپول، بین الاقوامی معاہدوں اور سفارتی ذرائع سے بھی مدد لی جا رہی ہے جبکہ گواہوں کے تحفظ کے لیے خصوصی اقدامات بھی کیے گئے ہیں تاکہ شواہد اور بیانات محفوظ رہ سکیں۔
حکام کے مطابق یہ کارروائیاں مستقبل میں بھی جاری رہیں گی تاکہ شامی عوام کے خلاف مبینہ جرائم کے ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سزا دی جا سکے۔













