امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے برسلز میں میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ایران کے ساتھ طے پانے والے امن معاہدے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ ہونے والا کوئی بھی امن معاہدہ ایک اچھا معاہدہ ہوگا۔
Pentagon chief Pete Hesgeth has slammed his NATO allies at a roundtable meeting over defence spending and what he says was a failure to provide US forces access to bases in Europe to launch attacks on Iran.
Hesgeth also announced a review of the US military presence in Europe. pic.twitter.com/BLLv26WKXd
— Al Jazeera Breaking News (@AJENews) June 18, 2026
ہیگسیتھ نے کہا کہ امریکا نے ایران کو معاہدے کے لیے مجبور کیا، ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے یا خرندنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ امریکا خطے میں استحکام اور جنگ کے خاتمے کا خواہاں ہے، تاہم معاہدے پر عمل درآمد اور مستقبل کے مذاکرات کو بھی قریب سے مانیٹر کیا جائے گا۔
امریکی وزیر دفاع نے نیٹو اتحادیوں پر بھی زور دیا کہ وہ اپنی دفاعی ذمہ داریوں میں زیادہ کردار ادا کریں۔ انہوں نے بعض اتحادی ممالک پر ایران جنگ کے دوران امریکا کو مطلوبہ سہولتیں اور فضائی رسائی فراہم نہ کرنے پر تنقید کی۔
مزید پڑھیں:ٹرمپ کا پولینڈ کے لیے بڑا اعلان، مزید 5 ہزار امریکی فوجی تعینات کرنے کا فیصلہ
ہیگسیتھ کا کہنا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمت مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے، جبکہ حتمی معاہدے کے لیے آئندہ مذاکرات میں متعدد اہم امور پر پیشرفت متوقع ہے۔
مزید پڑھیں:ایران کے پاس ڈیل کا تاریخی موقع، ایٹمی پروگرام ترک کرنا ہوگا: امریکی وزیرِ دفاع
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ امریکا اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر خطے میں امن و استحکام کے لیے کام جاری رکھے گا۔














