امریکا نے نایاب زمینی معدنیات کی مقامی پیداوار اور پراسیسنگ کو فروغ دینے کے لیے انرجی فیولز انکارپوریشن کے ساتھ 725 ملین ڈالر کے مشروط قرض کے معاہدے کا اعلان کردیا ہے۔
اس معاہدے کا مقصد امریکی اہم معدنیات کی سپلائی چین کو مضبوط بنانا اور نایاب زمینی عناصر کی پراسیسنگ میں بیرونی ممالک، خصوصاً چین، پر انحصار کم کرنا ہے، جو اس وقت عالمی سطح پر نایاب معدنیات کی پراسیسنگ میں نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاک-امریکا تعلقات بہترین، امریکی کمپنیاں ریکوڈک منصوبے پر جلد اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کریں گی، امریکی سفارتکار
انرجی فیولز، جو بنیادی طور پر یورینیم کی پیداوار سے وابستہ کمپنی ہے، اس سرمایہ کاری کے ذریعے نایاب زمینی عناصر کی علیحدگی اور دھات سازی کے شعبے میں اپنی صلاحیت میں اضافہ کرے گی، جو مستقل مقناطیسوں کی تیاری کے لیے انتہائی اہم عمل ہے۔

یہ نایاب عناصر 17 ضروری معدنیات پر مشتمل ہوتے ہیں، جو الیکٹرک گاڑیوں، اسمارٹ فونز، صاف توانائی کی ٹیکنالوجی، دفاعی نظام، ونڈ ٹربائنز، ہارڈ ڈسک ڈرائیوز اور ایم آر آئی جیسے طبی آلات کی تیاری میں استعمال ہوتے ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق انرجی فیولز کی بڑھتی ہوئی پیداواری صلاحیت ملکی صنعتی اور دفاعی شعبوں کے لیے مقناطیسوں اور دیگر خصوصی مصنوعات کی سپلائی چین کو مزید مستحکم کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا پاکستان تجارتی ڈیل! پاکستان کو کیا فائدہ ہو سکتا ہے؟
چین کی جانب سے نایاب معدنی مقناطیسوں کی برآمدات پر پابندیوں کے بعد گزشتہ ایک سال کے دوران امریکہ سمیت کئی ممالک نے نایاب معدنیات کی کان کنی اور پراسیسنگ میں سرمایہ کاری بڑھا دی ہے۔

تاہم یہ قرض حتمی منظوری سے قبل مالی، قانونی اور تکنیکی جانچ سمیت دیگر ضروری شرائط پوری کرنے سے مشروط ہوگا۔














