سپریم کورٹ نے خلع کے بعد سابقہ اہلیہ کو مقدمہ بازی میں پھنسانے والے سابق شوہر کی اپیل خارج کرتے ہوئے اس پر 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کردیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق سابق شوہر 30 دن کے اندر جرمانے کی رقم اپنی سابقہ اہلیہ کو ادا کرنے کا پابند ہوگا، جبکہ عدم ادائیگی کی صورت میں رقم فیملی کورٹ کے ذریعے وصول کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: ’ٹی وی کی آواز کم کرنے کو کیوں کہا‘، بیوی نے شوہر کو چاقو مار کر قتل کر دیا
سپریم کورٹ کے 9 صفحات پر مشتمل فیصلے میں قرار دیا گیا کہ خلع کے بعد خاتون کو مقدمہ بازی میں الجھانا اس کی عزتِ نفس اور خودمختاری پر شدید حملہ ہے۔ عدالت نے کہا کہ قانونی طور پر خلع لینے اور عدت مکمل کرنے کے بعد خاتون کو دوسری شادی کا مکمل حق حاصل ہے اور اس کے لیے سابق شوہر سے اجازت لینے کی کوئی ضرورت نہیں۔
فیصلے میں کہا گیا کہ جھوٹے فوجداری مقدمات اور کردار کشی کا مقصد عموماً خاتون پر دباؤ ڈالنا ہوتا ہے، جبکہ خواتین کے خلاف مقدمہ بازی کو ہراساں یا تذلیل کا ہتھیار نہیں بنایا جا سکتا۔ عدالت نے ملک بھر کی عدالتوں کو ہدایت کی کہ وہ نکاح کے تنازعات میں قانون کے غلط استعمال کے حوالے سے ہوشیار رہیں۔
یہ بھی پڑھیں: شوہر کی قاتل اسلام آباد کی پراسرار عورت جس نے پولیس کو 3 سال الجھائے رکھا
عدالت نے کہا کہ بدنیتی پر مبنی مقدمہ بازی کو روکنا اور سائلین کی عزتِ نفس کا تحفظ عدلیہ کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
مقدمے کے مطابق 2014 میں پشاور کی فیملی کورٹ نے حق مہر سے دستبرداری کے بدلے خاتون کے حق میں خلع کی ڈگری جاری کی تھی۔ سابق شوہر پر خاتون کو تشدد کا نشانہ بنانے، گھر سے نکالنے اور 4 سالہ بیٹی کو ماں سے جدا رکھنے کے الزامات بھی سامنے آئے تھے، جبکہ فیملی کورٹ نے بچے کی تحویل ماں کے سپرد کردی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد: سابقہ بیوی کے قتل میں ملوث ملزم گرفتار
خلع اور عدت کی تکمیل کے بعد خاتون کے دوسری شادی کرنے پر سابق شوہر نے نئی مقدمہ بازی شروع کر دی اور دفعہ 22-اے کے تحت درخواست دائر کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ خاتون اب بھی اس کے نکاح میں ہے۔
متعلقہ ایس ایچ او نے عدالت کو بتایا کہ مجسٹریٹ کے سامنے یہ الزامات پہلے ہی مسترد ہو چکے ہیں۔ 22-اے کی درخواست خارج ہونے کے بعد سابق شوہر نے ہائیکورٹ اور بعد ازاں سپریم کورٹ سے رجوع کیا، تاہم عدالت عظمیٰ نے اس کی اپیل مسترد کر دی۔














