رابن ہڈ سے منسوب ایک ہزار سال قدیم تاریخی بلوط کا درخت دم توڑ گیا

جمعرات 18 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ناٹنگھم شائر کے تاریخی شیرووڈ جنگل میں واقع دنیا کے مشہور ترین اور قدیم ترین بلوط کے درختوں میں شمار ہونے والا ’میجر اوک‘ تقریباً ایک ہزار سال بعد مکمل طور پر مرجھا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: جرمنی کا صدیوں پرانا شاہ بلوط کا درخت پریمیوں کا پیغام رساں کیسے بنا؟

برطانوی اخبار دی گارڈین کے مطابق اس تاریخی درخت پر رواں سال ایک بھی نیا پتہ نہیں آیا جس کے بعد ماہرین نے تصدیق کی ہے کہ درخت اپنی قدرتی زندگی مکمل کر چکا ہے۔

ماہرین کے مطابق حالیہ برسوں میں مسلسل شدید گرمی، خشک موسم اور موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث درخت شدید دباؤ کا شکار رہا جس کے نتیجے میں وہ زندہ نہ رہ سکا۔

میجر اوک یورپ کے قدیم ترین، بڑے اور مشہور درختوں میں شمار کیا جاتا تھا۔ اس کا تنا تقریباً 11 میٹر چوڑا جبکہ اس کی شاخیں 28 میٹر تک پھیلی ہوئی تھیں جس کی وجہ سے یہ ہر سال ہزاروں سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنتا تھا۔

یہ تاریخی درخت برطانوی لوک داستانوں کے مشہور کردار رابن ہڈ سے بھی منسوب ہے۔ روایت ہے کہ اگرچہ رابن ہڈ کے دور میں درخت اندر سے کھوکھلا نہیں تھا تاہم اسی درخت نے رابن ہڈ اور اس کے ساتھیوں کو شیرف آف ناٹنگھم سے بچنے کے لیے پناہ فراہم کی تھی۔

مزید پڑھیے: شگری بالا کے قدیم درخت کیسے اُگے، لوگ وہاں کیوں جاتے ہیں؟

ووڈ لینڈ ٹرسٹ نے سنہ 2014 میں میجر اوک کو سال کا بہترین درخت قرار دیا تھا۔ ادارے کے مطابق درخت کو قدرتی عوامل کے ساتھ ساتھ حد سے زیادہ سیاحتی سرگرمیوں نے بھی نقصان پہنچایا۔

ووڈ لینڈ ٹرسٹ کے سینئر کنزرویشن ایڈوائزر ایڈ پائن نے کہا کہ میجر اوک کا خاتمہ ایک واضح انتباہ ہے کہ اگر قدیم درختوں کے تحفظ پر سنجیدگی سے توجہ نہ دی گئی تو آئندہ نسلیں بھی ایسے تاریخی ورثے سے محروم ہو جائیں گی۔

دوسری جانب رائل سوسائٹی فار دی پروٹیکشن آف برڈز کے مقامی منتظم نے درخت کے سوکھ جانے کو ’دل توڑ دینے والا‘ واقعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ درخت اب زندہ نہیں رہا تاہم اسے جنگل میں ایک تاریخی یادگار اور جنگلی حیات کے مسکن کے طور پر محفوظ رکھا جائے گا۔

مزید پڑھیں: دنیا کے قدیم اور بلند ترین 22 سو برس کے درخت کو صحت مند قرار دیدیا گیا

واضح رہے کہ ماضی میں سیاح اس درخت کے بالکل قریب جا سکتے تھے بلکہ اس کے کھوکھلے تنے کے اندر بھی داخل ہوتے تھے تاہم سنہ 1970 کی دہائی میں اس کے گرد حفاظتی باڑ لگا دی گئی تھی جس کے بعد سے اسے صرف فاصلے سے دیکھا جا سکتا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

عمران خان کی بہن نورین نیازی کو متنازع بیان پر این سی سی آئی اے نے طلب کرلیا

افواجِ پاکستان قوم کا سرمایہ اور فخر، وقار مجروح کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، ملک احمد خان

کراچی پورٹ پر ایک ساتھ 2 ہزار الیکٹرک گاڑیاں، آخر یہ پاکستان کے لیے اتنی بڑی خبر کیوں ہے؟

عطا اللہ تارڑ کا پی ٹی وی اسپورٹس ٹیم کو خراج تحسین، فیفا ورلڈ کپ کی خصوصی کوریج پر فخر کا اظہار

آبنائے ہرمز پر انحصار ختم کرنے کے لیے مقامی سطح پر تیل کی تلاش شروع کرنے پر کام ہورہا ہے، وزیر پیٹرولیم

ویڈیو

نہال ہاشمی سے عالمی شہرت یافتہ باکسر عامر خان کی ملاقات، جدید باکسنگ اکیڈمی کے قیام کی خواہش کا اظہار

مذہبی روایات اور محبت سے بھرپور ڈراما سیریل ’دارالنجات‘ کا ٹیزر جاری، شہریار ، درِفشاں کا مرکزی کردار

آبنائے ہرمز کے بعد باب المندب کی بندش، نصرت جاوید نے ایرانی پراکسی کا کچا چٹھا کھول دیا

کالم / تجزیہ

فیفا کے سنہرے جوتوں کی الف لیلیٰ

کشکول کی تیاری

کیا موساد نےسابق ایرانی صدر کو آلہ کار بنا لیا تھا؟